تہران کے موجودہ رہنما ’بہت معقول‘ مگر ہمیں ایران کا تیل چاہیے: صدر ٹرمپ
تہران کے موجودہ رہنما ’بہت معقول‘ مگر ہمیں ایران کا تیل چاہیے: صدر ٹرمپ
پیر 30 مارچ 2026 13:23
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’امریکہ اور ایران براہ راست اور بالواسطہ ملاقاتیں‘ کر رہے ہیں اور ایران کے ’موجودہ لیڈر بہت معقول ہیں۔‘
دوسری جانب خطے میں مزید مزید امریکی فوجیوں کی آمد ہوئی ہے اور تہران نے متنبہ کیا ہے کہ وہ ذلت قبول نہیں کرے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کو صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان نے کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں ’بامعنی مذاکرات‘ کی میزبانی کے لیے تیاری کر رہا ہے جس کا مقصد ایک ماہ سے جاری ایران جنگ کو ختم کرنا ہے۔
امریکی صدر نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں ہم ان کے ساتھ معاہدہ کر لیں گے اور مجھے اس پر یقین بھی ہے لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ہم ایسا نہ کریں۔‘
اسی طرح اتوار کو فائنینشل ٹائمز میں شائع ہونے والے انٹرویو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ’ایران کے تیل کو قبضے میں لیں‘ جبکہ اس کے تیل کے اہم برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ایسا بہت آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔‘
جزیرہ خارگ ایران کے مغربی ساحل پر واقع ہے اور ملک کے لیے بہت اہم ٹرمینل ہے جبکہ ایران کے خلاف زمینی کارروائی کے حوالے سے بھی پینٹاگون اس پر نظر رکھتا ہے تاہم دوسری جانب امریکی حکام یہ اصرار بھی کر رہے ہیں کہ مکمل حملے سے گریز کیا جائے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران میں حکومت کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ انہوں نے اس بات کا یقین بھی دلایا کہ وہ ’ایرانیوں کے ساتھ معاہدہ‘ بھی کر لیں گے۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق ہزاروں فوجی مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیے گئے ہیں (فائل فوٹو: روئٹرز)
28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے جن کی جگہ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے لی ہے۔
اس کے بعد سے جنگ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکی ہے اس میں ہزاروں کی تعداد میں ہلاکتیں ہو چکی ہیں جب کہ توانائی کے ذرائع کی سپلائی چین بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل اور دوسرے ذرائع کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو کہا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر نے ’جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے‘ کے ممکنہ طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
چاروں ممالک نے اتوار کو امریکہ ایران جنگ کی شدت میں کمی کے لیے اسلام آباد میں مشترکہ مذاکرات کیے۔
پاکستان ایران جنگ کے خاتمے اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے متحرک ہے (فوٹو: وزارت خارجہ پاکستان)
پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق اتوار کو اسلام آباد میں خطے کی صورت حال پر مشاورتی اجلاس کے بعد اسحاق ڈار نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ’میں نے تینوں وزرائے خارجہ کے ساتھ نہایت مفید دوطرفہ ملاقاتیں کیں۔ تینوں وزرائے خارجہ نے وزیرِاعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی۔‘
’وزرائے خارجہ نے موجودہ علاقائی صورت حال پر نہایت تفصیلی اور گہرائی سے تبادلہ خیال کیا۔ ہم نے خطے میں جاری جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے ممکنہ طریقوں پر بھی گفتگو کی۔ وزرائے خارجہ نے جاری تنازعے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کے خطے میں انسانی جانوں اور معیشت پر تباہ کن اثرات نہایت افسوسناک ہیں۔‘
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اس سے قبل امریکہ پر الزام لگایا تھا کہ وہ ممکنہ مذاکرات کے لیے پیغامات بھیج رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی زمینی حملے کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نے فوجوں کو تعینات کیا تو تہران جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے قوم کے نام ایک پیغام ممیں کہا کہ جب تک امریکہ ایرانیوں سے ہتھیار ڈلوانے کی کوشش کرے گا ہمارا جواب یہی ہو گا کہ ہم ذلت قبول نہیں کریں گے۔
اسی طرح امریکہ کے محکمہ دفاع نے صدر ٹرمپ کو زمینی کارروائی شروع کرنے کا اختیار دیتے ہوئے ہزاروں فوجی مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیے ہیں۔