Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یروشلم میں عبادت کی آزادی پر پابندیاں، سعودی عرب اور اسلامی ممالک کی مذمت

اسرائیلی پولیس نے پام سنڈے کی تقریب کے لیے جانے والے کارڈینل پیئرباٹیسٹا اور دیگر مذہبی شخصیات کو چرچ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا (فوٹو: اے پی)
سعودی عرب، عرب اور اسلامی ممالک نے یروشلم میں عبادت کی آزادی پر اسرائیلی پابندیوں کی مذمت کی ہے۔
عرب نیوز اور خبر رساں ایجنسیز کے مطابق سعودی عرب، مصر، اردن، پاکستان، انڈونیشنیا، ترکیہ، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادت پر عائد مسلسل پابندیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ان پابندیوں میں مسلمان نمازیوں کو مسجد اقصیٰ تک رسائی سے روکنا اور یروشلم میں موجود لیٹن پیٹریارک کو پام سنڈے ماس منانے کے لیے چرچ آف ہولی سیپلچر میں داخل ہونے سے روکنا شامل ہے۔
اس اقدام پر بین الاقوامی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مقدس ہفتے سے متعلق باقی پابندیاں واپس لے لی تھیں۔
یروشلم میں رہائش پذیر لیٹن پیٹریارکیٹ مسیحیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے پادری کارڈینل پیئرباٹیسٹا پیزابالا اور فرانسسکو لیپلوپ کو مقدس مقام پر جانے سے روکا جو ایک ایسی جگہ پر بنا ہے جس کے بارے میں عیسائیوں کا ماننا ہے کہ وہاں حضرت عیسیٰ کو مصلوب کیا گیا تھا اور وہ مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھے تھے۔
پولیس کی جانب سے اس پابندی کی وجہ ایران جنگ سے متعلق خدشات بتائے گئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس کے نتیجے میں صدیوں میں پہلی بار چرچ کے سربراہوں کو پام سنڈے ماس منانے سے روک دیا گیا ہے۔‘
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے نصف شب کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ کارڈینل کو مکمل اور فوری رسائی فراہم کریں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’آج سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کارڈینل پیزابالا سے کہا گیا تھا کہ وہ چرچ آف ہولی سیپلچر میں اجتماع سے گریز کریں۔‘
ان کے مطابق ’اگرچہ میں اس تشویش کو سمجھتا ہوں مگر اس کے باوجود جیسے ہی مجھے کارڈینل پیزابالا کے ساتھ ہونے والے واقعے کا علم ہوا میں نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ پیٹریارک کو اپنی مرضی کے مطابق سروسز انجام دینے کے لیے سہولت فراہم کریں۔‘
ویٹیکن کی جانب سے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
اس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ویٹیکن کے سیکنڈ ان کمانڈ سیکریٹری آف سٹیٹ کارڈینکل پیٹرو پیرولین اور اس کے اعلیٰ سفارت کار آرچ بشپ پال آر گیلاگھر نے سفیر یارون سائیڈمین سے ملاقات کی جس میں ’اس واقعے پر افسوس اور جو وضاحت فراہم کی گئی ہے اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔‘
اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ یروشلم کے پرانے شہر میں تمام مقدس مقامات جن میں مسیحیوں، مسلمانوں اور یہودیوں کی عبادت گاہیں بھی شامل ہیں، کو ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے عبادت کے لیے جانے والوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے، خصوصاً وہ مقامات جہاں پر بموں سے بچاؤ کی پناہ گاہیں موجود نہیں ہیں۔

شیئر: