حدود شمالیہ کے جنگلی پودے خواتین کے قدرتی حسن کی ایک لازوال داستان
یہاں کے صحرائی ماحول کے مختلف عناصر ہی روایتی خوبصورتی کے اسباب میں تبدیل ہو گئے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
حدودِ شمالیہ کے علاقے میں جنگلی پودوں نے عرصۂ دراز سے عرب خواتین کی زندگیوں میں قدرتی حسن کے نمایاں ترین پہلوؤں میں سے ایک کو مجسم کر رکھا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہاں کے صحرائی ماحول کے مختلف عناصر ہی روایتی خوبصورتی کے اسباب میں تبدیل ہو گئے ہیں اور اُس گہرے رشتے کی عکاسی کرتے ہیں جو بیابیان کے مکینوں اور اُن کے ماحول کے مابین پایا جاتا ہے۔
یہی حسین عناصر، صحرا نشینوں کو وراثت میں ملی ہوئی اُس جمالیاتی شناخت کی تشکیل بھی کرتے ہیں جس کی جڑیں فطرت میں پیوست ہیں۔
نبات الکحیل، موسمی جنگلی پودوں میں سے ایک ہے جو بہار کے دِنوں میں حدودِ شمالیہ کے علاقوں میں پائی جانے والی چراگاہوں میں پھلتا پھولتا ہے۔ اِس کی جڑیں سیاہی مائل سرخ رنگ کی ہوتی ہیں جو اِس کی پہچان بھی ہیں اور اِنھیں افزائشِ حُسن کی مصنوعات یا کاسمیٹکس کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
نباتِ الکحیل کو آنکھوں کی آرائش یا چہرے کے نقوش کے سنگھار کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ یہیں سے اس پودے کے نام اور کام میں پائی جانے والے لغوی اور ثقافتی معانی باہم مل جاتے ہیں۔ (عربی لفظ کحیل، خوبصورتی اور خصوصاً سُرمہ لگانے کے بعد اُس کی سیاہی کی وجہ سے آنکھوں میں پیدا ہونے والی دلکشی کو کہتے ہیں)۔
النقد نامی پودا، صحرا میں پائے جاننے والے خشبودار پودوں میں سے ایک ہے جو اِس ریجن میں پرورش اور خوب نشوونما حاصل کرتا ہے۔ اس پودے کو بھی روایتی طور پر آرائشِ جمال کی چیزوں میں کام میں لاتے ہیں۔

نبات النقد کے پتوں سے کبھی قدرتی طور پر انتہائی مُرتکِز تیل (اِی سینشل آئل) کشید کیا جاتا تھا جسے عطریات یا سر پر لگانے والے تیل یا لباس پر چھڑکاؤ کرنے والی خشبو میں استعمال کیا جاتا تھا۔
اِس سے خطے کی خواتین کی قوتِ شامعہ کی انتہائی نفاست کا اظہار ہوتا ہے اور اس بات کی توثیق بھی کہ اُن کی روزمرہ زندگی میں فطرت کے عناصر کس حد پایا جاتا ہے۔
