Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈوبا ہُوا خزانہ: بحیرۂ احمر میں قدیم بحری جہاز سے ملنے والے اسلامی سکوں کے نایاب ذخیرے کی نمائش

جدہ کے ریڈ سِی میوزیم میں یہ نمائش اِس ماہ کی 29 تاریخ تک جاری رہے گی (فوٹو: ایس پی اے)
’ڈوبا ہُوا خزانہ: بحیرۂ احمر کا سمندری ورثہ‘ کے نام سے جدہ کے ریڈ سِی میوزیم میں جاری نمائش میں الشعیبہ کے قریب دریافت کیے جانے والے خزانے کے سِکے توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
 
اسلامی دور کے سِکوں کا یہ ذخِیرہ، قدیم زمانے میں جدہ کی بندرگاہ الشیعبہ کے قریب برسوں پہلے ڈوب جانے والے ایک جہاز سے ملا ہے۔ الشعیبہ وہ تاریخی بندرگاہ تھی جسے سمندر کے راستے مکہ کی جانب سفر کرنے والے عازمینِ حج استعمال کرتے تھے۔
 
سنہ 1225 سے 1350 عیسوی کے زمانے سے تعلق رکھنے والے سکوں کا یہ ذخیرہ، اس زمانے میں علاقائی تجارت کے وسیع نیٹ ورک اور بحیرۂ احمر کے ذریعے معاشی رابطوں پر روشنی ڈالتا ہے جو اِس علاقے کی سمندری اور تجارتی تاریخ سے متعلق بیش قیمت معلومات کا خزانہ ہے۔
 الشعیبہ کے قریب ملنے والے سکوں کے خزانے کی اہمیت اِس وجہ سے مزید بڑھ جاتی ہے کہ دریافت ہونے کے بعد اِن سکوں کو پہلے مملکت سے باہر لے جایا گیا تھا۔
 
یہ عمل اُن کوششوں کا عکاس ہے جو ثقافتی ورثے کو بچانے اور آثارِ قدیمہ کے نوادارت کو محفوظ رکھنے کے لیے آج کل کے انیشیٹیوز میں شامل ہیں۔
 
ڈوب جانے والے بحری جہاز سے تقریباً 300 سکے کامیابی سے دریافت کیے گئے تھے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اِس خزانے میں پانچ ہزار کے قریب سکے تھے۔
 
جدہ کے ریڈ سِی میوزیم میں یہ نمائش اِس ماہ کی 29 تاریخ تک جاری رہے گی جس سے دیکھنے والوں کو بصری ڈسپلے اور انٹرایکٹیو ٹیکنالوجیوں کے ذریعے ایک شاندار ثقافتی اور تعلیمی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔

 
بحیرۂ احمر سے نکالے گئے نوادارت، اِس کے پانیوں میں طویل المدتی جہاز رانی اور صدیوں پر پھیلے ہوئے ثقافتی اور تجارتی تبادلوں کے گواہ بھی ہیں۔    

 

شیئر: