Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اولاد کی تعلیم کے لیے پلاٹ فروخت کردیا‘، ڈاکٹر بننے کے بعد بیٹی کا وطن واپسی پر منفرد استقبال

پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے اپنی بیٹی کی تعلیمی کامیابی کو کچھ اس انداز میں منایا کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے۔
انہوں نے بیٹی کے ڈاکٹر بننے پر نہ صرف ڈھول کی تھاپ پر خوشی کا اظہار کیا بلکہ گھوڑوں کا رقص بھی کروایا اور بیٹی کو گھوڑے پر سوار کروا کر گھر لائے۔ 
مرزا عبدالقیوم لاہور سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک تشہیری ادارے میں کام کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’اللہ نے ان کی شادی کے سات سال بعد انہیں بیٹی کی نعمت سے نوازا۔ میری ایک ہی بیٹی ہے جو میری شادی کے ساتویں برس پیدا ہوئی اور وہ میری کل کائنات ہے۔‘
ان کی بیٹی مہنیل قیوم 24 برس کی ہیں اور حال ہی میں انہوں نے میڈیکل ڈاکٹر بننے کا اپنا اور اپنے والد کا خواب پورا کیا ہے۔
مہنیل کی ابتدائی تعلیم لاہور میں ہی ہوئی۔ اسی دوران انہوں نے قرآن بھی حفظ کیا۔ انہوں نے ایف ایس سی کے بعد جب اپنے والد سے کہا کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں تو والد نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔
مرزا عبدالقیدم نے اُردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اپنی بیٹی پر کبھی زیادہ نمبر لینے یا بہتر ڈویژن حاصل کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا۔ میں نے ہمیشہ یہی کہا کہ زندگی انجوائے کرو، بس فیل نہ ہونا۔‘
’جب بیٹی نے ڈاکٹر بننے کا ارادہ ظاہر کیا تو میں نے واضح کر دیا کہ یہ راستہ محنت طلب ہے لیکن تم اگر تیار ہو تو میں اپنا ایک پلاٹ فروخت کر دیتا ہوں۔‘ 
مہنیل قیوم کے ایف ایس سی میں نمبر میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے کافی نہیں تھے تو انہوں نے خود متبادل راستہ تلاش کرنا شروع کیا۔ 
یہ تلاش انہیں کرغزستان لے گئی اور انہوں نے وہاں سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ والد نے اپنا پلاٹ فروخت کیا اور بیٹی کو بیرونِ ملک بھیج دیا۔
مرزا عبدالقیوم کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ ایک طرف مالی دباؤ کا سامنا تھا تو دوسری طرف بیٹی کی دُوری بھی ستا رہی تھی لیکن مرزا عبدالقیوم کے لیے بیٹی کا خواب سب سے اہم تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’اس دوران کئی مشکلات آئیں کیونکہ وہ کمانے والے اکیلے ہی تھے اور بیٹی زیرِتعلیم تھی لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور ہماری بیٹی بھی نے آج تک ہمیں بیٹے کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔‘
جون 2025 میں مہنیل کی ڈگری مکمل ہوئی اور وہ پاکستان واپس لوٹ آئیں۔ انہوں نے پاکستان آنے سے قبل اپنے والد سے اپنی چند سہیلیوں کا تذکرہ کیا کہ ان کا تعلیم مکمل کرنے کے بعد کس طرح شاندار طریقے سے استقبال کیا گیا۔
مہنیل بتاتی ہیں کہ ’انہوں نے اپنی ایک دوست کے استقبال کی ویڈیوز اپنے والد کو دکھائی تھیں جس پر پھول نِچھاور کیے گئے تھے اور ہار پہنائے گئے تھے۔‘ 
’میں نے بس سرسری طور پر تذکرہ کیا تھا لیکن جب میں پاکستان پہنچی تو میرے استقبال کے لیے گھوڑے کھڑے تھے۔ مجھے ایک گھوڑے پر بٹھایا گیا۔ ایک گھوڑی آگے رقص کر رہی تھی اور لوگ نوٹ نچھاور کر رہے تھے اور پھول برسا رہے تھے۔‘
وہ مزید بتاتی ہیں کہ ’انہوں نے اسی دوران کچھ ویڈیوز بھی بنائیں۔ میں اپنے والد سے ہر بات کرتی ہوں۔ جب یہ ویڈیوز بنیں تو میں نے ابو سے اجازت لی کہ کیا میں انہیں ٹک ٹاک پر اَپ لوڈ کر سکتی ہوں؟ والد کی اجازت کے بعد یہ ویڈیوز اَپ لوڈ ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئیں۔‘
یہ سب کچھ ان کے لیے غیر متوقع تھا۔ مرزا عبدالقیوم نے تو صرف اپنی بیٹی کی کامیابی کو منفرد انداز سے منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے پہلے بگھی کا انتظام کیا لیکن گلی تنگ ہونے کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا تو دو گھوڑوں کا انتظام کیا گیا۔ ڈھول والے بلائے گئے تاکہ خوشی کو بھرپور انداز میں منایا جا سکے۔
مرزا عبدالقیوم اس حوالے سے مزید بتاتے ہیں کہ ’ہم جب محلے میں داخل ہوئے تو لوگ پوچھ رہے تھے کہ کیا ہو رہا ہے؟ میں نے سب کو بتایا کہ میری بیٹی ڈاکٹر بن گئی ہے اور ہم اسی کی خوشی منا رہے ہیں۔ پھر لوگ خود ہی شامل ہوتے گئے اور مبارک باد دینے لگے۔‘
ان کے مطابق ان کی بیٹی کے استقبال کی ویڈیوز کئی ماہ بعد وائرل ہوئیں لیکن اس کے باوجود آج بھی لوگ ان کی طرف مبارک باد دینے آتے رہتے ہیں۔
مہنیل اب اپنی سپیشلائزیشن کے لیے دوبارہ کرغزستان جا چکی ہیں۔ مرزا عبدالقیوم بتاتے ہیں کہ ’میں نے اپنی بیٹی کو گھر تک محدود نہیں کیا۔ اسے اچھا ماحول دیا، پڑھایا اور مزید بھی پڑھاؤں گا۔‘
مہنیل نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے والد نے مجھے اتنا پڑھایا، اپنا پلاٹ بیچ دیا اور آج تک کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ میرے لیے یہی کافی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ ہر بیٹی کو میرے والد جیسا باپ ملے۔‘

شیئر: