ایران میں قید نوبیل انعام یافتہ نرگس محمدی کی حالت خراب، ’دل کا دورہ پڑا‘
ایران میں قید نوبیل انعام یافتہ نرگس محمدی کی حالت خراب، ’دل کا دورہ پڑا‘
بدھ 1 اپریل 2026 9:22
نرگس محمدی کو جب 2023 میں نوبیل انعام سے نوازا گیا اس وقت بھی وہ ایران کی جیل میں تھیں (فوٹو: سی این بی سی)
ایران میں قید نوبیل انعام یافتہ خاتون نرگس محمدی کے وکیل نے کہا ہے کہ نرگس محمدی بہت مشکل سے سانس لیتی ہیں، ان کی حالت بہت خراب ہے.
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نرگس محمدی کی بہن اور دو وکیلوں نے ایران کے شمال مشرقی علاقے زانجان کی جیل میں ان سے ملاقات کی۔ ان کی فرانسیسی وکیل شیرین ارداکانی نے اے پی کو بتایا کہ ان کی جیل جانے والے دو ایرانی وکیلوں سے بات ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب میرے ساتھیوں نے ان (نرگس محمدی) کو دیکھا تو وہ حیران رہ گئے کیونکہ ان کا رنگ پیلا پڑ چکا تھا اور کمزور لگ رہی تھیں جبکہ وزن بہت کم ہو گیا تھا اور ان کے پاس ایک نرس بھی موجود تھی۔‘
شیرین ارداکانی نے مزید کہا کہ ’ان کے ساتھی قیدیوں نے بتایا کہ 24 مارچ کو وہ ایک گھنٹے سے زیادہ وقت بے ہوش رہیں اور جیل کے کلینک میں معائنے کے بعد ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ شاید ان کو دل کا دورہ پڑا ہے۔‘
ان کے مطابق ’اس کے بعد سے ان کو سینے میں ایک دن کے دوران کئی بار تکلیف کا احساس ہوتا ہے، وہ بہت مشکل سے سانس لیتی ہیں اور ان کی حالت بہت خراب ہے۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نرگس محمدی کو ہسپتال منتقل کرنے یا ماہر امراض قلب کو دکھانے سے انکار کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وکلا کے اس مختصر ملاقات کے موقع پر جیل کا ایک اہلکار بھی موجود تھا۔
ایران میں موجود نرگس محمدی کے وکلا سے فوری طور پر بات کرنا ممکن نہیں تھا اور وہ میڈیا سے بات بھی نہیں کرتے۔
ایرانی حکام کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش نے ملک سے تقریباً تمام مواصلاتی رابطے منقطع کر دیے ہیں۔
نرگس محمدی ایران میں ہونے والے حکومت مخالف احتجاج میں نمایاں رہیں (فوٹو: اے ایف پی)
فرانسیسی وکیل نے یہ بھی کہا کہ ایرانی حکام کی اجازت اور نگرانی کے بغیر غیرملکی صحافیوں سے بات کرنا ایک مجرمانہ عمل ہے اور اس پر 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
انسانی حقوق کی وکیل 53 سالہ نرگس محمدی کو 2023 میں جب پیس نوبیل انعام سے نوازا گیا اس وقت بھی وہ جیل میں تھیں اور ان کو دسمبر میں ایران کے مشرقی شہر مشہد کے دورے کے موقع پر گرفتار کیا گیا تھا اور ان کو مزید سات برس کی سزا سنائی گئی تھی۔
کچھ عرصے سے ان کی صحت کی مسلسل خرابی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
پچھلے مہینے نرگس محمدی کے شوہر تاغی رحمانی نے اے پی کو بتایا تھا کہ ان کی صحت بہت خراب ہو رہی ہے جبکہ دسمبر میں گرفتاری کے وقت ان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی اہلکاروں نے ان کو گردن، سر اور پہلو میں ٹھوکریں ماریں۔ دسمبر میں گرفتاری سے قبل نرگس محمدی ایرانی حکومت کے خلاف پروپیگنڈے کے الزامات کے تحت 13 سال اور نو ماہ کی سزا کاٹ رہی تھیں تاہم طبی خدشات کے باعث ان کو 2024 کے اواخر میں فرلو پر رہا کر دیا گیا تھا۔
نرگس محمدی کا نوبیل پرائز ان کے بچوں نے وصول کیا تھا (فوٹو: روئٹرز)
رہائی کے بعد بھی نرگس محمدی نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور مظاہروں کے دوران انٹرنیشنل میڈیا پر نظر آتی رہیں، جن میں تہران کی جیل ایون کے سامنے احتجاج بھی شامل تھا، جہاں وہ اس وقت قید ہیں۔
فروری میں مشہد کی ایک ریوولوشنری عدالت نے ان کو سات برس کی اضافی سزا سنائی تھی۔ یہ عدالتیں عام طور پر ایسے فیصلے جاری کرتی ہیں جن میں الزامات کا سامنا کرنے والوں اپنے دفاع کا کوئی موقع نہیں ملتا۔
نرگس محمدی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کو دل کا عارضہ لاحق ہے اور 2022 میں سرجری سے قبل قید کے دوران بھی ان کو دل کے دوڑے پڑے۔
ارکانی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں تشویش ہے کہ ایرانی حکومت ان (نرگس محمدی) کو آہستہ آہستہ قتل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ان کو حراست میں لیے جانے کے بعد بھی ان کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں۔‘