امریکہ کے ساتھ معاہدہ ایران کے حقوق محفوظ ہونے تک ممکن نہیں: تہران
ایران کے چیف مذاکرات کار نے اتوار کے روز کہا کہ تہران امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے پر اس وقت تک رضامند نہیں ہوگا جب تک ایرانی حقوق کو مکمل طور پر یقینی نہ بنایا جائے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ اطلاعات سامنے آئی کہ واشنگٹن نے ایران کو مزید سخت شرائط پر مبنی امن تجویز واپس بھیجا ہے۔
اس تجویز میں کسی بھی قسم کی تبدیلی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باضابطہ خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے میں مزید تاخیر کا سبب بن سکتی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والے مذاکرات سخت بیانات اور کبھی کبھار تشدد کے واقعات سے متاثر رہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز اور ایکسِیوس نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو غور کے لیے ایک نیا فریم ورک بھیجا ہے جس میں ’زیادہ سخت‘ شرائط شامل ہیں، تاہم ان کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔
محمد باقر قالیباف نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں کہا کہ ’ہم کسی ایسے معاہدے کی منظوری نہیں دیں گے جب تک ہمیں مکمل یقین نہ ہو جائے کہ ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی ترجیحات میں ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا اور بند کی گئی آبنائے ہرمز کی بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔
انہوں نے اپنی بہو لارا ٹرمپ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو ہفتے کی رات فاکس نیوز پر نشر ہوا، کہا کہ ’مجھے صرف ایک ضمانت درکار ہے کہ کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ وہ اس پر متفق ہو چکے ہیں، اور یہ بہت دلچسپ بات تھی۔‘
تاہم تہران اس سے قبل صدر ٹرمپ کے دعوؤں پر شکوک و شبہات کا اظہار کر چکا ہے، اور دونوں فریق اب بھی اہم معاملات پر ایک دوسرے سے کافی دور ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر بامعنی مذاکرات شروع کرنے سے پہلے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر کی ریلیز چاہتا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے ٹرمپ کے اس دعوے کو کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر تباہ کر دیے جائیں گے، ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔
ایران نے یہ بھی اصرار کیا ہے کہ لبنان کو کسی بھی معاہدے میں شامل کیا جائے، حالانکہ وہاں لڑائی جاری ہے۔
اگرچہ ٹرمپ نے پہلے اشارہ دیا تھا کہ معاہدہ قریب ہے، لیکن فاکس نیوز کے انٹرویو میں انہوں ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ بھی دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔ اگر ہمیں وہ نہیں ملا جو ہم چاہتے ہیں، تو معاملہ کسی اور طریقے سے ختم ہوگا۔‘
یہ بیان امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ان ریمارکس سے ملتا جلتا تھا جنہوں نے ہفتے کے روز ایشیا میں ایک دفاعی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو واشنگٹن جنگ دوبارہ شروع کرنے کی ’مکمل صلاحیت‘ رکھتا ہے۔
اگرچہ اپریل میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان عارضی جنگ بندی اور پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کے بعد ایران اور خلیجی خطے میں روزانہ ہونے والے حملے رک گئے تھے، تاہم وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری رہی ہیں۔
