Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فیصل آباد میں میڈیکل طالبہ پر تشدد کا کیس،عدالتی ریکارڈ میں کیا ثابت ہوا؟

 پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر  فیصل آباد کی ایک عدالت نے میڈیکل طالبہ کے اغوا، تشدد اور نازیبا ویڈیوز بنانے اور انہیں پھیلانے کے مقدمے میں کاروباری شخصیت شیخ دانش کو  پانچ سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ 
منگل کو اس کیس کے فیصلے سے پہلے کمرہ عدالت میں غیر معمولی کشیدگی تھی۔ فیصلہ سنانے سے پہلے عدالت نے ملزم شیخ دانش کی ذاتی سکیورٹی ہٹانے اور کمرہ عدالت اندر سے بند کرنے کا حکم دیا۔
عدالت کے فیصلے کے بعد ضمانت پر موجود شیخ دانش اور ان کی سیکریٹری ماہم کو پولیس نے وہیں سے گرفتار کر لیا۔
خیال رہے کہ اگست 2022 میں ابتدائی طور پر ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ جس میں کئی افراد ایک نوجوان لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کی تذلیل کر رہے ہیں۔
متاثرہ طالبہ پر حملے اور تذلیل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کی اور فیصل آباد کے ایک بااثر کاروباری شخص اور ٹیکسٹائل کے کاروبار سے وابستہ شیخ دانش کو مدعیہ کی درخواست پر مقدمے میں نامزد کیا گیا۔
 
عدالت نے شیخ دانش کو قصوروار قرار دیتے ہوئے پانچ سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ متاثرہ لڑکی کو ایک کروڑ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
اسی مقدمے میں ماہم فاطمہ کو تین سال قید اور 30 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی، جبکہ شیخ دانش کی بیٹی انا علی اور بعض دیگر شریک ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا گیا ہے۔
واقعہ کب اور کیسے پیش آیا؟

 اگست 2022 میں اس واقعے کا ابتدائی طور پر ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا: فائل فوٹو پکسابے

اس مقدمے کی مدعیہ خدیجہ غفور اعوان بی ڈی ایس فائنل ایئر کی طالبہ تھیں اور اپنی والدہ کے ساتھ فیصل آباد میں رہتی تھیں۔ جبکہ فیصل آباد ہی کی ایک کاروباری شخصیت شیخ دانش کی بیٹی  انا علی ان کی دوست تھیں اور اسی تعلق کی وجہ سے ان کا شیخ دانش کے گھر آنا جانا بھی رہا۔
بعدازاں شیخ دانش نے مدعیہ کو شادی کا پیغام بھیجا، لیکن انکار کے بعد مبینہ طور پر دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور تعلق ختم کر دیا گیا۔
تحریری فیصلے کے مطابق آٹھ اگست 2022 کو شیخ دانش، انا علی اور دیگر ساتھی مبینہ طور پر زبردستی مدعیہ کے گھر میں داخل ہوئے۔
اس وقت مدعیہ کا بھائی حسن غفور، جو بیرون ملک سے آیا ہوا تھا، اپنے دوستوں کے ساتھ گھر میں موجود تھا۔
فیصلے میں لکھا ہے کہ ملزمان نے گھر میں داخل ہو کر تشدد کیا، مدعیہ کے دو موبائل فون، نقد رقم اور طلائی زیورات چھینے، پھر مدعیہ اور اس کے بھائی کو گاڑیوں میں بٹھا کر شیخ دانش کے گھر لے جایا گیا جہاں انہیں محبوس رکھا گیا اور دھمکیاں دی گئیں۔
اگلے مرحلے میں،مدعیہ کو دوبارہ بلایا گیا، اسلحے کے زور پر ہراساں کیا گیا، ان کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بنائی گئیں اور دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے شکایت کی تو یہ مواد سوشل میڈیا پر پھیلا دیا جائے گا۔ فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ بعد میں یہی مواد بعض رشتہ داروں اور جاننے والوں کو بھی بھیجا گیا اور اسے مزید پھیلانے سے روکنے کے لیے رقم کا مطالبہ کیا گیا۔
عدالتی فیصلے میں مدعیہ کے بیان کا خلاصہ بھی شامل ہے، جس کے مطابق اس کے بال کاٹے گئے، اس کی تضحیک کی گئی، اسے زبردستی معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا، کپڑے پھاڑے گئے اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی۔ فیصلے میں استغاثہ کے اس مؤقف کا بھی ذکر ہے کہ یہ سب کچھ ویڈیوز کی صورت میں ریکارڈ ہوا اور پھر انہیں دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا گیا۔
عدالتی ریکارڈ میں کیا ثابت ہوا
عدالتی فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت کے سامنے صرف مدعیہ کا بیان ہی نہیں تھا بلکہ ایف آئی اے کے تکنیکی اہلکاروں، فرانزک افسران، تفتیشی حکام اور برآمد شدہ ڈیجیٹل آلات سے متعلق مواد بھی پیش کیا گیا۔
فیصلے میں موبائل فونز، آئی پیڈز، میک بک، ڈی وی آر اور مختلف تکنیکی و فرانزک رپورٹس کا ذکر موجود ہے، جنہیں استغاثہ نے اپنے مقدمے کے حصے کے طور پر عدالت کے سامنے رکھا۔ یہی وہ بنیاد تھی جس پر عدالت نے دو ملزمان کو سزا سنائی اور دیگر بعض ملزمان کو شک کا فائدہ دیا۔
یہ مقدمہ اس اعتبار سے بھی اہم رہا کہ اس میں روایتی جسمانی تشدد کے الزامات کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل شواہد، ویڈیوز کی ترسیل، موبائل فونز کا فرانزک تجزیہ اور پیکا کی دفعات بھی شامل تھیں۔
اس لیے عدالت کے سامنے سوال صرف یہ نہیں تھا کہ طالبہ کے ساتھ کیا ہوا، بلکہ یہ بھی تھا کہ اس واقعے کے بعد بنائے گئے یا پھیلائے گئے مواد کی قانونی حیثیت کیا بنتی ہے اور کس ملزم کے خلاف کتنا ثبوت موجود ہے۔
 

شیئر: