’لاہور سے پنڈی سوا دو گھنٹے میں‘، فاسٹ ٹرین منصوبے میں اور کیا کچھ شامل ہے؟
’لاہور سے پنڈی سوا دو گھنٹے میں‘، فاسٹ ٹرین منصوبے میں اور کیا کچھ شامل ہے؟
اتوار 17 مئی 2026 5:06
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
پاکستان کے دو اہم ترین اور گنجان آباد شہروں، لاہور اور راولپنڈی کے درمیان روزانہ لاکھوں افراد مختلف ذرائع سے سفر کرتے ہیں۔ اب ان دونوں شہروں کو پاکستان کی پہلی تیز ترین ٹرین سروس کے ذریعے جوڑنے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ حال ہی میں پنجاب حکومت اور پاکستان ریلویز کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس میں اس منصوبے کے خددوخال وضع ہوئے ہیں ۔
تیز ترین ٹرین منصوبہ اصل میں ہے کیا؟
اگر آپ ٹرین پر سفر کرنے کے عادی ہیں تو یقینا لاہور سے راولپنڈی تک سفر کیسے ہوتا ہے اس سے آپ واقف ہی ہوں گے۔ کبھی بھی چھ گھنٹے سے پہلے یہ سفر طے نہیں ہوتا۔ اور اس کی بڑی وجہ ہے کہ لاہور سے راولپنڈی تک ریلوے ٹریک سنگل ہے۔ یعنی آپ دنیا کی سب سے تیز ترین ٹرین بھی اگر پاکستان میں لے کر آ جائیں تو بھی وہ اس ٹریک پر سست ہی چلے گی۔
اس کی وجہ بتاتے ہوئے ترجمان ریلوے جہانزیب گوندل کہتے ہیں کہ ’سنگل ٹرین کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آنے جانے والی دونوں ریل گاڑیوں نے ایک ہی ٹریک پر سفر کرنا ہے۔ اس لیے جب کہیں دو ریل گاڑیوں نے ایک وقت میں کراس کرنا ہوتا ہے تو ایک کو سٹیشن پر اس وقت تک انتظار کرنا پڑتا ہے جب دوسری نکل نہیں جاتی۔ تو سب سے زیادہ وقت اس میں صرف ہوتا ہے۔ اس نئے منصوبے میں سب سے پہلے ٹریک کو ڈبل کرنا شامل ہے۔ اور اب اس پر کام شروع ہو چکا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اس میں ہمارے لیے چیلینجز بھی ہیں جیسے کہ ہمارا ایک کالو وال سیکشن آتا ہے جہاں ایک تیکھا موڑ ہے اور ٹرین کی سپیڈ 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کرنی پڑتی ہے۔ لیکن جیسے ہی ٹریک اپگریڈ ہو گا تو یہاں بھی ٹرین 120 فی گھنٹہ سے چل پائے گا اور فاصلہ سمٹ جائے گا۔ دو سے اڑھائی گھنٹے میں ٹرین پہنچ جائے گی۔‘
ٹریک کی اپ گریڈیشن کے بعد اس کے لیے سپیشل ریل گاڑی امپورٹ کی جائے گی جو اس ٹریک پر چلے گی۔
اخراجات کا تخمینہ اور تکمیل کی مدت:
جہانزیب گوندل بتاتے ہیں کہ ابھی تک کے تخمینے کے مطابق اس پر 436 ارب روپے لاگت آئے گی۔ لیکن تفصیلی فزیبلٹی رپورٹ، انجینئرنگ ڈیزائن اور بین الاقوامی ٹینڈرز کے بعد ہی مکمل طو پر یہ بتانا ممکن ہوگا کہ حتمی اخراجات کتنے ہوں گے۔ پنجاب حکومت اس منصوبے میں زمین کے حصول، روٹ کی کلیئرنس اور جزوی فنانسنگ کے ذریعے انتظامی و مالی معاونت فراہم کرے گی جبکہ تکنیکی مہارت اور آپریشنز کی ذمہ داری پاکستان ریلویز کی ہوگی۔ وقت کے حوالے سے، اراضی کے حصول، ٹریک بچھانے، جدید ترین کمپیوٹرائزڈ سگنلنگ سسٹم کی تنصیب اور رولنگ سٹاک کی درآمد جیسے مراحل مکمل کرنے کے لیے کم از کم تین سے پانچ سال کا عرصہ درکار ہو گا۔
یہ منصوبہ مختلف مراحل میں مکمل کیا جائے گا تاکہ بجٹ کی دستیابی کے ساتھ ساتھ بتدریج کام آگے بڑھ سکے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
یہ منصوبہ مختلف مراحل میں مکمل کیا جائے گا تاکہ بجٹ کی دستیابی کے ساتھ ساتھ بتدریج کام آگے بڑھ سکے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں ریلوے ٹریک کو ڈبل کرنے کی تاریخ خاصی طویل ہے۔ اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت (2013سے 2018) میں، جب خواجہ سعد رفیق وفاقی وزیر ریلوے تھے، ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی پر خاصی توجہ دی گئی تھی۔ اس دور میں کراچی سے لاہور تک مین لائن ون (ایم ایل ون) پر ڈبل ٹریک مکمل کرنے کا وہ دیرینہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا جو کئی دہائیوں سے التوا کا شکار تھا۔ خاص طور پر لودھراں سے خانیوال اور ساہیوال سے رائے ونڈ تک ڈبل ٹریک کی تکمیل اس دور کی ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ اس پراجیکٹ کے نتیجے میں نہ صرف مسافر ٹرینوں کے اوقات کار میں بہتری آئی اور گھنٹوں پر محیط کراسنگ کا وقت بچا، بلکہ مال بردار گاڑیوں کی ترسیل تیز ہونے سے محکمے کی آمدن میں بھی خاصہ اضافہ ہوا۔ وہ منصوبہ بڑی حد تک کامیاب رہا اور اس نے ریلوے کے خسارے کو کم کرنے میں مدد دی۔
تاہم، اس وقت بھی وسائل کی کمی کے باعث لاہور سے آگے گوجرانوالہ، جہلم اور راولپنڈی تک کا ٹریک سنگل ہی رہا، جس کی وجہ سے شمالی پنجاب اور خیبر پختونخوا کی طرف جانے والی ٹرینیں ہمیشہ سست روی اور تاخیر کا شکار رہیں۔
تکنیکی و جغرافیائی چیلنجز اور پراجیکٹ کا مستقبل
لاہور سے راولپنڈی تک ڈبل ٹریک بچھانا محض سیدھی زمین پر پٹڑیاں بچھانے کا نام نہیں۔
جہانزیب گوندل بتاتے ہیں کہ ابھی تک کے تخمینے کے مطابق اس پر 436 ارب روپے لاگت آئے گی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ماہرین کے مطابق اس میں سخت جغرافیائی اور تکنیکی چیلنجز بھی شامل ہیں۔ گوجرانوالہ تک کا علاقہ تو میدانی ہے، لیکن دریائے چناب کے بعد، جہلم اور پوٹھوہار کے علاقے میں کٹی پھٹی زمین اور پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے پرانے پلوں کی توسیع یا نئے پلوں کی تعمیر اور خطرناک موڑوں کو سیدھا کرنا ایک مہنگا اور تکنیکی اعتبار سے پیچیدہ عمل ہوگا۔ اس کے علاوہ تیز رفتار ٹرین کو محفوظ بنانے کے لیے ٹریک کے دونوں اطراف مکمل باڑ لگانا اور تمام لیول کراسنگز کو انڈر پاسز یا اوور ہیڈ فلائی اوورز میں تبدیل کرنا لازمی ہوگا تاکہ ٹرین بغیر کسی رکاوٹ کے تیز رفتاری برقرار رکھ سکے۔
تاہم ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ ان تمام پہلووں پر غور کے بعد ہی یہ معاہدہ طے پایا اور امید ہے کہ اسی دور حکومت میں یہ پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔