Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آبنائے ہرمز کھلولنے کے لیے برطانیہ 35 ممالک کے اجلاس کی میزبانی کرے گا: وزیراعظم سٹارمر

ٹرمپ نے برطانیہ کے اخبار ٹیلیگراف کو دیے گئے انٹرویو میں نیٹو کو ’کاغذی شیر‘ قرار دیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ برطانیہ اس ہفتے تقریباً 35 ممالک کا ایک اہم اجلاس منعقد کرے گا جس میں تزویراتی اہمیت کے حامل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا، جو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث متاثر ہو چکی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس اجلاس کی میزبانی برطانیہ کی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر کریں گی۔ سٹارمر نے ڈاؤننگ اسٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا، تاہم اجلاس کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
سٹارمر کے مطابق اجلاس میں ایسے تمام سفارتی اور سیاسی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا جن کے ذریعے  آزادانہ جہاز رانی بحال کی جا سکے، پھنسے ہوئے جہازوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے اور اہم اشیاء کی ترسیل دوبارہ شروع کی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اجلاس کے بعد فوجی ماہرین کو بھی اکٹھا کیا جائے گا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ لڑائی ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو محفوظ اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
اس گفتگو میں وہ ممالک بھی شامل ہوں گے جنہوں نے حال ہی میں ایک بیان پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے مناسب کوششوں میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔
ان ممالک میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور نیدرلینڈز شامل ہیں۔
ایران نے 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ، اسرائیل کارروائیوں کے بعد سے اس اہم آبی گزرگاہ کو تقریباً بند کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
زمانہ امن میں دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور مائع قدرتی گیس اسی آبنائے سے گزرتی ہے۔
وزیراعظم سٹارمر نے کہا، ’مجھے عوام کو حقیقت بتانی ہوگی کہ اس (آبنائے کو دوبارہ کھولنا) آسان نہیں ہوگا۔‘
برطانوی وزیرِاعظم نے اس موقع پر نیٹو کی بھی حمایت کی، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس اتحاد پر تنقید کی گئی۔
انہوں نے کہا، ’نیٹو دنیا کا سب سے مؤثر فوجی اتحاد ہے اور اس نے کئی دہائیوں تک ہمیں محفوظ رکھا ہے، اور ہم اس کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں۔‘
ٹرمپ نے برطانیہ کے اخبار ٹیلیگراف کو دیے گئے انٹرویو میں نیٹو کو ’کاغذی شیر قرار دیا تھا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکہ کی نیٹو رکنیت پر نظرثانی کریں گے تو انہوں نے کہا کہ یہ بات ’غور سے بھی آگے‘ ہے۔
گذشتہ ماہ ٹرمپ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا تھا کہ اگر رکن ممالک اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے میں مدد نہ کریں تو یہ نیٹو کے مستقبل کے لیے ’بہت برا‘ ہوگا۔
منگل کے روز انہوں نے کہا کہ جو ممالک جنگ میں شامل نہیں لیکن ایندھن کی قلت کا شکار ہیں، وہ ’خود جا کر آبنائے ہرمز سے اپنا تیل حاصل کریں، اور مزید کہا کہ امریکہ ان کی مدد نہیں کرے گا۔

شیئر: