ایران کے افزودہ یورینیم کو طاقت کے ذریعے حاصل کرنا ایک خطرناک اور پیچیدہ کارروائی: ماہرین
ایران کے افزودہ یورینیم کو طاقت کے ذریعے حاصل کرنا ایک خطرناک اور پیچیدہ کارروائی: ماہرین
بدھ 1 اپریل 2026 14:31
آئی اے ای اے کا خیال ہے کہ تقریباً 200 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم ایران کے پاس ہے: فوٹو اے ایف پی
امریکی ماہرین اور سابق حکومتی عہدیداروں کے مطابق، امریکہ اگر ایران کے یورینیم کے ذخیرے کو محفوظ بنانے کے لیے فوجی دستے بھیجنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ ایک پیچیدہ، خطرناک اور طویل کارروائی ہوگی، جس میں تابکاری اور کیمیائی خطرات دونوں شامل ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جنگ کے لیے مختلف وجوہات بیان کی ہیں، لیکن انہوں نے اپنا یہ مؤقف ضرور مسلسل دہرایا ہے کہ ’ایران جنگ کا ایک بنیادی مقصد یہ ہے کہ ملک کے پاس ’کبھی بھی جوہری ہتھیار نہ ہوں۔‘ تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ ایران کے جوہری مواد پر قبضہ کرنے کے لیے کس حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔
عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق خصوصی تربیت یافتہ امریکی فوجیوں کو جنگی علاقے میں بھیجنا اور ذخیرہ ہٹانا کیونکہ انتہائی خطرناک ہے، اس لیے ایک اور آپشن ایران کے ساتھ مذاکراتی حل ہو سکتا ہے، جس میں یہ مواد بغیر کسی طاقت کے حاصل اور محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی جوہری نگرانی کے ادارے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے)کے مطابق، ایران کے پاس 440.9 کلوگرام (972 پاؤنڈ) یورینیم موجود ہے جس کی افزودگی 60 فیصد تک کی گئی ہے، جو ہتھیار بنانے کے لیے ضروری 90 فیصد کی سطح سے تکنیکی طور پر کچھ زیادہ دور نہیں ہے۔
آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے گذشتہ سال ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ ’ایران اگر اپنے پروگرام کو ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ ذخیرہ ایران کو زیادہ سے زیادہ 10 جوہری بم بنانے کی صلاحیت دے سکتا ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران کے پاس کوئی ایسا ہتھیار موجود ہے۔‘
ایران طویل عرصے سے یہ کہہ رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، لیکن آئی اے ای اے اور مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ تہران کا منظم جوہری ہتھیاروں کا پروگرام 2003 تک جاری تھا۔
جوہری مواد غالباً سرنگوں میں محفوظ ہے
گذشتہ برس جون 2025 کے بعد جب اسرائیلی اور امریکی حملوں نے ایران کے فضائی دفاع، فوجی قیادت اور جوہری پروگرام کو بری طرح نقصان پہنچایا تو آئی اے ای اے کے معائنہ کار ایسے یورینیم کی تصدیق نہیں کر سکے جس سے ہتھیار بنائے جا سکیں۔
ادارے کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنوں کی محدود نگرانی کی وجہ سے بھی اس کے درست مقام کے بارے میں معلوم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ آئی اے ای اے کا خیال ہے کہ تقریباً 200 کلوگرام (تقریباً 440 پاؤنڈ) اعلیٰ افزودہ یورینیم ایران کے شہر اصفہان کے باہر جوہری کمپلیکس میں سرنگوں میں محفوظ ہے۔ یہ مقام بنیادی طور پر یورینیم گیس تیار کرنے کے لیے جانا جاتا تھا، جو سنٹری فیوجز میں صاف کی جاتی ہے۔
اضافی مقدار نطنز جوہری سائٹ میں موجود ہو سکتی ہے اور کم مقدار میں شاید فردو میں کسی مرکز میں محفوظ ہو۔
یہ واضح نہیں کہ اضافی مقدار کہیں اور بھی موجود ہو سکتی ہے۔
امریکی قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے 19 مارچ کو ہاؤس میں سماعت کے دوران کہا کہ ’امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کو ’غیرمعمولی اعتماد‘ ہے کہ وہ ایران کے اعلیٰ سطح کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے مقام سے واقف ہے۔
تابکاری اور کیمیائی خطرات
رپورٹس کے مطابق ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ کنستروں میں رکھا گیا ہے، ہر کنستر تقریباً 50 کلوگرام (110 پاؤنڈ) وزن کا ہے۔ کنستروں کی تعداد 26 یا اس سے دگنا ہو سکتی ہے جس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہر سلنڈر کس قدر بھرا ہوا ہے۔
واشنگٹن میں قائم غیر منافع بخش تحقیقی ادارے انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی کے بانی اور عراق میں سابق جوہری ہتھیاروں کے معائنہ کار ڈیوڈ ایلبرائٹ کے مطابق، اعلیٰ معیار کے افزودہ یورینیم والے کنستر ’کافی مضبوط‘ ہیں اور یہ جوہری مواد ذخیرہ کرنے اور نقل و حمل کے لیے بنائے گئے ہیں۔
لیکن انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ ’اگر کنستر کو نقصان پہنچتا ہے، مثال کے طور پر فضائی حملوں کی وجہ سے اور کنستروں میں نمی چلی جاتی ہے تو ’سلامتی کے مسائل نمایاں ہو جائیں گے۔‘
ایسی صورت میں فلورین پھیلنے کے خطرات پیدا ہو جائیں گے، یہ ایک انتہائی زہریلا کیمیائی مادہ ہے جو جلد، آنکھوں اور پھیپھڑوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ کنستروں کو قبضے میں لینے کے لیے سرنگوں میں جانے والے ہر شخص کو ’خصوصی لباس پہننا پڑے گا۔‘
مزید یہ کہ مختلف کنسترز کے درمیان فاصلے کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہوگا تاکہ کوئی خود کار جوہری ردِعمل نہ ہو جس سے ’بہت زیادہ تابکاری‘ پیدا ہو۔
ایلبرائٹ کے مطابق، یورینیم سے نمٹنے کے لیے بہترین طریقہ یہ ہوگا کہ اسے ایران سے خاص فوجی طیاروں کے ذریعے نکالا جائے اور پھر اسے کم افزودہ مواد کے ساتھ ملا کر سویلین استعمال کے قابل بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’ایران کے اندر یہ عمل ممکن نہیں لگتا کیونکہ ممکن ہے جنگ کی وجہ سے ضروری انفراسٹرکچر متاثر ہو چکا ہو۔‘
رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کی سینئر ریسرچ فیلو داریا ڈولزیکووا نے بھی اس بات سے اتفاق کیا۔
ان کے مطابق، ایران کے اندر ڈاؤن بلینڈ کرنا ’بہت زیادہ ممکنہ آپشن نہیں کیونکہ یہ بہت پیچیدہ اور طویل عمل ہے جس کے لیے خاص ساز و سامان درکار ہوتا ہے۔‘
زمینی فوجیوں کے لیے خطرات
ایک رپورٹ کے مطابق خصوصی تربیت یافتہ امریکی فوجیوں کو جنگی علاقے میں بھیجنا اور ذخیرہ ہٹانا انتہائی خطرناک ہے: فائل فوٹو اے ایف پی
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں فوج کی سیکرٹری رہ چکی کرسٹین ای وورموتھ کے مطابق، زمینی فوجیوں کے ذریعے ایران کے جوہری مواد کو محفوظ بنانا ’انتہائی پیچیدہ اور خطرناک فوجی کارروائی‘ ہوگی۔
ایسا اس لیے ہے کیونکہ یہ مواد ممکنہ طور پر متعدد مقامات پر موجود ہے اور یہ کارروائی ’ممکنہ طور پر جانی نقصان کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’صرف اصفہان میں کارروائی کے لیے بھی آسانی سے 1,000 فوجی اہلکار درکار ہوں گے۔‘
سرنگوں کے داخلی راستے چوں کہ ممکنہ طور پر ملبے کے نیچے دفن ہیں، اس لیے بھاری مشینری جیسے کھدائی کرنے والے آلات لانے کے لیے ہیلی کاپٹرز استعمال کرنا ہوں گے، اور امریکی فوج کو شاید قریب ہی لینڈنگ کے لیے ایک ایئر اسٹرپ بھی بنانا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ ’خصوصی افواج ممکنہ طور پر 75ویں رینجر رجمنٹ کو جوہری ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا جو سرنگوں میں کنستر تلاش کریں گے، اور یہ خصوصی افواج ممکنہ حملوں سے بچاؤ کے لیے سکیورٹی ڈھانچہ قائم کریں گی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کارروائی میں 20 ویں کیمیائی، حیاتیاتی، تابکاری، جوہری اور دھماکہ خیز کمانڈ کی خصوصی نیوکلیئر ٹیمیں بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔‘
’ایرانی اس پورے معاملے پر غور کر چکے ہیں اور یقینی طور پر یہ کوشش کریں گے کہ یہ کارروائی مشکل ہو۔ اس لیے زمین کے نیچے جا کر اصلی اور نقلی کنسترز میں فرق کرنا، اور ایرانی شکنجے میں پھنسنے سے بچنا آسان نہیں ہو گا۔‘
مذاکراتی حل
ایک آپشن ایران کے ساتھ مذاکراتی حل ہو سکتا ہے، جس میں جوہری مواد بغیر کسی طاقت کے حاصل اور محفوظ کیا جا سکتا ہے: فائل فوٹو اے ایف پی
نیشنل نیوکلیئر سکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے آفس آف نیوکلیئر میٹیریل ریموول کے سابق ڈائریکٹر سکاٹ رویکر کے مطابق، سب سے بہتر آپشن یہ ہوگا کہ (ایرانی) حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جائے تاکہ یہ تمام مواد نکال لیا جائے۔
ایسی ہی ایک کارروائی 1994 میں ہوئی تھی، جب امریکہ نے قزاقستان کی حکومت کے ساتھ مل کر 600 کلوگرام (تقریباً 1,322 پاؤنڈ) ہتھیاروں کے قابل یورینیم کو خفیہ طور پر منتقل کیا تھا، جسے ’پروجیکٹ سفائر‘ کا نام دیا گیا۔ یہ مواد سابق سوویت یونین کے جوہری پروگرام سے بچا ہوا تھا۔
رویکر نے کہا کہ ’امریکی محکمہ توانائی کا موبائل پیکیجنگ یونٹ قزاقستان کے تجربے کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا اور اس نے کئی ممالک سے جوہری مواد محفوظ طریقے سے نکالا، جیسا کہ 1998 میں جارجیا اور 2004، 2007 اور 2008 میں عراق میں بھی ایسی ہی کارروائی کی گئی۔‘
یہ یونٹ ماہرین اور خصوصی ساز و سامان پر مشتمل ہے جو کسی بھی جگہ جا کر جوہری مواد محفوظ طریقے سے نکال سکتا ہے، اور رویکر کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکراتی معاہدے کی صورت میں یہ بہترین طور پر کام کر سکتا ہے۔
تہران امریکا پر یقین کرنے پر تیار نہیں کیونکہ ٹرمپ کے دور میں امریکہ نے جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی اور اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے دوران دو بار حملہ کیا۔
مذاکراتی حل کی صورت میں آئی اے ای اے کے معائنہ کار بھی اس مشن کا حصہ بن سکتے ہیں۔ گروسی نے 22 مارچ کو سی بی ایس کے پروگرام ’فیس دی نیشن‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنے اختیارات پر غور کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران کی معاہدے کے تحت یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معائنہ کاروں کو اجازت دے، لیکن سادہ سی بات یہ ہے کہ جب بم گر رہے ہوں تو پھر کچھ نہیں کیا جا سکتا۔‘