سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق موسم بہار میں جب آب و ہوا معتدل اور قدرتی چراگاہیں حد نگاہ تک سبزہ زاروں سے بھر جاتی ہیں ایسے میں ان چراگاہوں سے چرنے والے مویشیوں کی جسمانی صحت میں بھی اضافہ ہوتا ہے جس کا اثر دودھ کی پیداوار میں اضافے کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔
بہار میں شمالی سرحدی علاقے میں رہنے والے بادیہ نشین خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اونٹنی کے دودھ کو خاص طورپر استعمال کرتے ہیں۔
مقامی باشندے ہی نہیں بلکہ بہار کے موسم سے لطف اندوز ہونے کےلیے آنے والے سیاح بھی ان دنوں شوق سے اونٹنی کا دودھ پیتے ہیں، یہ علاقے کی ایک قدیم روایت بھی ہے جو پرانی اقدار سے جڑی ہوئی ہے۔
صحرائی علاقوں میں لگائے گئے کیمپوں میں آنے والے مہمانوں کی تواضع بھی خالص اور تازہ اونٹنی کے دودھ سے کی جاتی ہے۔
بادیہ نشین ہی نہیں بلکہ تفریح کے لیے آنے والے بھی اونٹنی کا دودھ شوق سے پیتے ہیں(فوٹو، ایس پی اے)
اونٹنی کا دودھ صدیوں سے صحرائی زندگی کا اہم جزو رہا ہے اور مشکل حالات میں ایک اہم غذائی ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ آج بھی یہ مقامی ثقافت میں اپنی مضبوط حیثیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
موسمِ بہار میں اونٹنی کے دودھ کی بڑھتی ہوئی طلب انسان کے اپنے قدرتی ماحول سے گہرے تعلق اور روایتی اقدار کو زندہ رکھنے کی کوشش کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ منظر ثقافتی ورثے اور صحرائی زندگی کے حسین امتزاج کو ظاہر کرتا ہے، جو اس عرصے میں شمالی سرحدی علاقے میں نمایاں ہوتا ہے۔