پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر مرکزی ملزم عمر حیات کو سزائے موت اور مجموعی طور پر 30 برس قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔
تاہم یہ فیصلہ صرف ایک مجرم کو اس کے انجام تک پہنچانے کی کہانی نہیں بلکہ یہ پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متحرک خواتین کی سکیورٹی اور ان کو لاحق سماجی خطرات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے منگل کو گزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ کھلی عدالت میں سنایا۔
مزید پڑھیں
-
ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس: عدالت نے ملزم کو سزائے موت سنا دیNode ID: 904430
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ملزم عمر حیات پر ثنا یوسف کو ان کے گھر میں گھس کر قتل کرنے کا جرم بلا شبہ ثابت ہو چکا ہے جس پر اسے سزا دی جا رہی ہے۔
عدالتی ریکارڈ اور پولیس دستاویزات کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ برس 2 جون 2025 کو اسلام آباد میں پیش آیا تھا جہاں ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو ان کے گھر کے اندر قتل کیا گیا تھا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اگلے ہی دن یعنی 3 جون 2025 کو ملزم عمر حیات کو جڑانوالہ سے گرفتار کیا تھا۔
فیصلے کے مطابق تھانہ سنبل میں درج مقدمہ نمبر 370/25 کے تحت ملزم عمر حیات کو تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت سزائیں سنائی گئی ہیں۔
عدالت نے ملزم کو دفعہ 302 یعنی قتلِ عمد کے تحت سزائے موت اور 20 لاکھ روپے جرمانے کا حکم دیا جبکہ گھر میں گھسنے کے جرم میں دفعہ 449 کے تحت 10 سال قیدِ بامشقت اور 2 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
اس کے علاوہ ڈکیتی کی دفعہ 392 کے تحت بھی ملزم کو 10 سال قیدِ بامشقت اور 2 لاکھ روپے جرمانہ جبکہ مسروقہ مال پاس رکھنے کی دفعہ 411 کے تحت مزید 10 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔
اس طرح عدالت نے مجموعی طور پر ملزم کو سزائے موت کے ساتھ ساتھ 30 سال قید اور 25 لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم دیا ہے۔
سماعت کے دوران ’لبرل سوسائٹی‘ کا ذکر
کیس کی آخری سماعت کے دوران عدالت میں شدید گرما گرمی دیکھنے کو ملی۔
مقدمے کے مدعی (ثنا کے والد) کے وکیل نے جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کو دو بار سزائے موت دی جائے۔
دوسری جانب ملزم عمر حیات کے وکیل نے اپنے مؤکل کا دفاع کرتے ہوئے دلائل دیے۔

انہوں نے عدالت پر زور دیا کہ وہ کسی سماجی دباؤ یا خواتین کے حقوق کی علمبردار تنظیموں کے خوف سے فیصلہ نہ کریں۔
ملزم کے وکیل کا کہنا تھا ’عدالت اس ڈر سے فیصلہ نہ کرے کہ این جی اوز سڑکوں پر نکل آئیں گی۔ لبرل سوسائٹی کے ڈر سے ثنا یوسف کیس کا فیصلہ نہیں ہونا چاہیے اور اس معاملے کو خواتین پر مبنی معاشرتی بحث کی طرف نہ لے جایا جائے۔ پہلے سے یہ سوچ کر رکھنا کہ ملزم کو سزائے موت دینی ہی دینی ہے، زیادتی ہو گی۔‘
ملزم کے وکیل کے ان ریمارکس پر ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے برہمی کا اظہار کیا اور وکیل کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ وہ ’عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔‘
جج نے ریمارکس دیے کہ ’عدالتیں صرف قانون اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں، کسی سماجی یا لبرل دباؤ پر نہیں۔‘
موبائل فارنزک اور ’کاکا‘ نامی فون نمبر
اس کیس میں سب سے اہم موڑ ڈیجیٹل شواہد تھے جو استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے۔
دورانِ سماعت مقتولہ ثنا یوسف اور ملزم کے درمیان ہونے والی کالز کا ریکارڈ اور چیٹ کے سکرین شاٹس عدالت میں پیش کیے گئے۔
اگرچہ ملزم عمر حیات نے عدالت میں صحتِ جرم سے انکار کیا اور بیان دیا کہ اس نے ثنا کو قتل کرنے کا کوئی اعتراف نہیں کیا اور نہ ہی اس کا مقتولہ سے کوئی رابطہ تھا۔

اس پر جج افضل مجوکہ نے ملزم سے استفسار کیا کہ ’دورانِ تفتیش ثنا یوسف کے فون سے ’کاکا‘ کے نام سے ایک نمبر سامنے آیا تھا۔ موبائل فارنزک کے بعد یہ ثابت ہوا ہے کہ وہ نمبر آپ کا ہی تھا۔ اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟‘
اس سوال پر ملزم کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا اور اس نے صرف اتنا کہا کہ وہ اپنے وکیل کے بغیر اس کا جواب نہیں دے سکتا۔
ثنا یوسف کا قتل کوئی پہلا یا اکلوتا واقعہ نہیں ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا بالخصوص ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنانے والی خواتین کو حالیہ برسوں میں شدید ترین مزاحمت اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان میں کم از کم چار معروف خواتین ٹک ٹاکرز کو قتل کیا جا چکا ہے جن میں کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ امریکی نژاد پاکستانی لڑکی حرا انور بھی شامل ہیں جنہیں جنوری 2025 میں ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنانے پر اعتراض کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا تھا۔
اسی طرح فروری 2025 میں جہلم کے نواحی علاقے میں 20 سالہ انسا ساجد کو ان کے حقیقی بھائیوں نے اس وقت ’غیرت کے نام‘ پر قتل کیا جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ ٹک ٹاک پر متحرک ہیں جبکہ اس سے قبل جنوری 2024 میں گجرات کے مقام پر 14 سالہ صبا افضال کو ان کی اپنی 18 سالہ بہن نے مبینہ طور پر ٹک ٹاک ویڈیو کے تنازع پر فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔












