جنگوں میں آزمودہ اسرائیلی ہتھیاروں کی عالمی مانگ میں تیزی سے اضافہ
جب اسرائیل کے دفاعی حکام نے پچھلے برس پرنٹر کمپنی میسیویٹ سے رابطہ کیا اور اس کے تھری ڈی پرنٹرز کو فوجی ڈرون کے پرزے بنانے کے لیے کہا تو اس کے سی ای او یوسی ازرزار نے اسے فوراً قبول کر لیا۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اگرچہ وہ اسرائیلی کمپنی ڈزنی، ڈریم ورکس اور نیٹ فلکس کے لیے بڑے سیٹ پیسز اور دیگر ڈیزائنز تیار کر رہی تھی لیکن فوج کے لیے تیزی سے بڑے ڈرونز کے پرزے بنانے کا موقع اتنا اہم تھا کہ اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔
یوسی ازرزار کا کہنا ہے کہ ’میں ہالی وڈ کے سیٹس کے بارے میں سوچنا بند کر دیا، انٹرٹینمنٹ انڈسٹری ایک اچھا گاہک ہے مگر دفاع ایک ضرورت ہے۔‘
غزہ، ایران اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی وسیع کارروائیوں پر عالمی سطح پر ہونے والی تنقید کے باوجود اسرائیل کی اسلحہ سازی کی صنعت سے وابستہ کاروبار تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔
اس سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ وہ ممالک جو اسرائیل کی اسلحہ ساز کمپنیوں کے بائیکاٹ کا ارادہ کر چکے تھے وہ اب خاموشی سے آرڈر دے رہی ہیں۔
اسی طرح مینوفیکچررز جن میں ماسیوٹ جیسی کمپنیاں بھی شامل ہیں جو فوجی شعبے کا کوئی خاص تجربہ نہیں رکھتیں، ان کو بھی موقع ملا ہے اور وہ اپنی اختراعات کو جنگی مقاصد کے لیے پیش کر رہی ہیں۔
اسرائیل کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ برس کے دوران اسرائیلی ہتھیاروں کی فروخت میں دو گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہو چکا ہے اور 2024 کے دوران اس کا کاروبار قریباً 15 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچا جبکہ وزارت دفاع کی جانب سے ابھی تک 2025 کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے ہیں۔
تاہم اسرائیل کے بڑے اسلحہ ساز اداروں جن میں ایلبٹ اور اسرائیل ایئروسپیس انڈسٹریز بھی شامل ہیں، کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان کی سیلز میں پچھلے برس دو ہندسوں کا اضافہ ہوا۔
اسرائیل کی اسلحہ سازی کی صنعت کی نصف سے زیادہ سیلز میزائلوں، راکٹوں اور فضائی دفاعی سامان پر مشتمل ہیں۔
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی مارچ کی رپورٹ کے مطابق پہلی بار اسرائیل نے عالمی طور پر اسلحے کی برآمدات میں برطانیہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور دنیا کا ساتواں بڑا اسلحہ ساز ملک بن کر ابھرا ہے۔