صدر ٹرمپ کی ڈیڈلائن کے بعد ایران کے اسرائیل اور کویت پر حملے
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کے لیے دی گئی مہلت کے ایک دن بعد اتوار کی صبح اسرائیل اور کویت پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کویت اور اسرائیل نے کہا ہے کہ ان کے دفاعی نظام ایران کے نئے حملوں کا جواب دے رہے ہیں۔
یہ حملے اس جنگ کا حصہ ہیں جو ایک ماہ پہلے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جس کے جواب میں ایران نے کارروائی کی تھی۔
یہ جنگ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل گئی ہے اور عالمی معیشت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
ایران کی افواج آبنائے ہرمز پر مضبوط کنٹرول رکھے ہوئے ہیں، جو تیل اور گیس کی اہم گزرگاہ ہے، اور وہ خلیجی ممالک کے معاشی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں جنہیں وہ امریکہ اور اسرائیل کا حامی سمجھتے ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو کہا تھا کہ ایران کے پاس آبنائے ہُرمز کھولنے سے متعلق معاہدہ کرنے کے لیے 48 گھنٹے باقی ہیں، ورنہ ’قیامت ٹُوٹ پڑے گی‘
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’یاد رکھیں جب میں نے ایران کو 10 دن دیے تھے کہ وہ معاہدہ کرے یا آبنائے ہُرمز کھول دے۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’وقت ختم ہو رہا ہے، 48 گھنٹوں کے بعد ان پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔‘
ایران کی مرکزی فوجی قیادت نے صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کو مسترد کر دیا اور جنرل علی عبداللہی علی آبادی نے اس (دھمکی) کو ’بے بس، گھبرائی ہوئی، غیر متوازن اور احمقانہُ‘ قرار دیا۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کے الفاظ دہراتے ہوئے خبردار کیا کہ ’آپ کے لیے جہنم کے دروازے کھل جائیں گے۔‘