Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب میں 2025 کے دوران تقریباً 60 لاکھ چھتریاں درآمد

ڈیٹا کے مطابق مملکت میں سب سے زیادہ چھتریاں چین سے درآمد کی جاتی ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
ہر سال حج سیزن کے دوران سورج سے بچنے کے لیے چھتریوں کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے جو مناسک حج کے دوران عازمین کے استعمال میں کی جانے والی ایک اہم چیز ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق خاص طور پر سخت گرمی اور مقدس مقامات کے درمیان آنے جانے کے لیے چھتریوں کی درآمد میں بڑا اضافہ ہو جاتا ہے۔
زکات، ٹیکس اور کسٹمز اتھارٹی کے اعدادوشمار کے مطابق مملکت سعودی عرب نے 2025 میں 59 لاکھ، 59 ہزار 426 چھتریاں درآمد کیں جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں آٹھ لاکھ 65 ہزار 127 چھتریاں درآمد کی گئیں۔
ڈیٹا کے مطابق مملکت میں سب سے زیادہ چھتریاں چین سے درآمد کی جاتی ہیں جبکہ اس کے علاوہ برطانیہ، ترکیے اور مصر سے بھی چھتریاں منگوائی جاتی ہیں تاکہ عازمین حج اور عمرہ زائرین کی خدمت کے لیے مختلف اقسام کا سامان مہیا کیا جا سکے۔
حج سے وابستہ موسمی سامان کا شعبہ ان سیکٹرز میں سے ایک ہے جو حج سیزن کے دوران غیرمعمولی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنتا ہے۔
اس کی بڑی وجہ ان مصنوعات کی مانگ ہے جو عازمین حج کو مناسک کی ادائیگی کے دوران آرام اور تحفظ فراہم کرتی ہیں اور یہ سب کچھ زائرین کی خدمت کے لیے مملکت کے مربوط انتظامات اور تیاریوں کا ایک اہم حصہ ہے۔
 

 

شیئر: