صدر ٹرمپ کی ایران کو 48 گھنٹے میں معاہدہ کرنے کی مہلت، ورنہ ’قیامت ٹُوٹ پڑے گی‘
ماہرین کے مطابق شہری توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جنگی جُرم کے زُمرے میں آسکتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو کہا ہے کہ ایران کے پاس آبنائے ہُرمز کھولنے سے متعلق معاہدہ کرنے کے لیے 48 گھنٹے باقی ہیں، ورنہ ’قیامت ٹُوٹ پڑے گی‘
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’یاد رکھیں جب میں نے ایران کو 10 دن دیے تھے کہ وہ معاہدہ کرے یا آبنائے ہُرمز کھول دے۔‘
انہوں نے مزید لکھا کہ ’وقت ختم ہو رہا ہے، 48 گھنٹوں کے بعد ان پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر 21 مارچ کو دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہُرمز کو مکمل طور پر نہ کھولا تو وہ ایران کے بجلی گھروں، خاص طور پر سب سے بڑے پاور پلانٹ کو، ’تباہ‘ کر دیں گے۔
تاہم دو دن بعد انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام کے ساتھ ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت‘ جاری ہے اور انہوں نے بجلی گھروں پر کسی بھی حملے کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا۔
بعد ازاں انہوں نے ڈیڈلائن میں مزید توسیع کرتے ہوئے اسے پیر کی رات 8 بجے (منگل 00:00 جی ایم ٹی) تک بڑھا دیا۔
ماہرین کے مطابق شہری توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جنگی جُرم کے زُمرے میں آسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سنیچر کو سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ایران نے ’کبھی بھی اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔‘
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق عباس عراقچی نے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم پاکستان کی کوششوں کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہیں اور ہم نے کبھی اسلام آباد آنے سے انکار نہیں کیا۔‘
’ہمارے لیے اہم بات یہ ہے کہ ہم پر مسلط کی گئی غیر قانونی جنگ کا حتمی اور پائیدار خاتمہ کن شرائط پر ممکن ہے۔‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی میڈیا ایران کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے۔‘
