Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلائنڈ سپورٹس میں ترقی، سعودی عرب کی پیرالمپک میں رسائی مضبوط

سعودی ایتھلیٹس نے کئی بڑی کامیابی حاصل کی ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں بینائی سے محروم افراد کے لیے کھیلوں کا شعبہ مربوط پروگراموں، شراکت داریوں اور ٹیلنٹ کو منظم انداز میں نکھارنے کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے تاکہ علاقائی اور انٹرنیشنل پیرالمپک مقابلوں میں سعودی عرب کی رسائی مضبوط ہو سکے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق سعودی فیڈریشن فار وژوئل امپیرمینٹس کے صدر ڈاکٹر فیصل برویس کہتے ہیں کہ ’فیڈریشن ایتھلیٹس کے لیے ایک مربوط راستہ فراہم کرتی ہے جس میں ٹیلنٹ کی ابتدا سے لے کر مقابلوں تک تمام مراحل شامل ہیں۔‘
ڈیٹا کی مدد سے ٹریننگ کے فیصلے لینے کے لیے لانگ ٹرم ایتھلیٹ ڈیویلپمنٹ (ایل ٹی اے ڈی) پر انحصار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنرل اتھارٹی فار سٹیٹسٹکس کے مطابق مملکت بھر میں بینائی سے محروم افراد کی تعداد ایک لاکھ 81 ہزار سے زیادہ ہے جو اس شعبے میں قومی ذمہ داری کی عکاسی کرتی ہے۔
2022 میں سعودی اولمپک اور پیرالمپک کمیٹی کے تحت آزاد ادارہ بننے کے بعد فیڈریشن نے طویل مدتی بنیادوں پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے تعاون سے ترقیاتی منصوبہ بنایا ہے۔
اس کی توجہ گول بال، بلائنڈ جوڈو اور بلائنڈ فٹبال پر ہے جبکہ اس کے ساتھ پاورلفٹنگ اور ٹیبل ٹینس کو بھی سپورٹ کیا جاتا ہے۔
سعودی ایتھلیٹس نے کئی بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن میں مسقط میں منعقد ہوئی 2026 کی ویسٹ ایشن پیرا گیمز میں قومی ٹیم کی جانب سے گول بال میں سونے کا تمغہ جیتنا شامل ہے جبکہ 2025 میں مصر میں ہونے والی گرینڈ پری میں جوڈو مقابلوں میں ایتھلیٹ نے پانچویں پوزیشن حاصل کی۔
فیڈریشن شراکت داروں کے ساتھ کام کرتی ہے جن میں وزارت کھیل، سعودی اولمپک اینڈ پیرالمپک کمیٹی، کنگ خالد آئی سپیشلسٹ ہسپتال، کنگ سعود یونیورسٹی اور دیگر ایسوسی ایشنز شامل ہیں۔

مستقبل میں پلیئر ڈیویلپمنٹ کے پلان شامل ہیں جن میں سکولوں اور یونیورسٹیوں میں اقدامات کیے جائیں گے اور ڈیجیٹل ڈیٹا مینیجمنٹ سسٹم کو فائنلائز کیا جائے گا۔
برویس کہتے ہیں کہ کھیلوں کے ذریعے خود اعتمادی پیدا کرکے زندگی کا معیار بہتر بنایا جا سکتا ہے اور کمیونٹی میں اتحاد اور آزادی پیدا ہوتی ہے۔

 

شیئر: