Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

توانائی بچت مہم، پاکستان کے بیشتر شہروں میں مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

پاکستان کی وفاقی حکومت نے توانائی کی بچت اور بڑھتے ہوئے اخراجات پر قابو پانے کے لیے ملک کے بیشتر حصوں میں کاروباری مراکز اور شادی ہالز کے اوقاتِ کار محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت پیر کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک اہم جائزہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بازار اور شاپنگ مالز رات آٹھ بجے بند کر دیے جائیں گے۔
ان فیصلوں کا باقاعدہ اطلاق کل یعنی سات اپریل سے ہو گا، تاہم صوبہ سندھ میں ابھی مشاورت کا عمل جاری ہے۔
نئی پابندیاں کیا ہیں؟
اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق تمام بڑے بازار اور شاپنگ مالز رات آٹھ بجے بند ہوں گے۔ خیبر پختونخوا کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں ایک گھنٹے کی رعایت کے ساتھ رات 9 بجے تک کی اجازت ہو گی۔ ریسٹورنٹس، بیکریاں اور تندور رات 10 بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
شادی ہالز اور مارکیز کے علاوہ نجی گھروں میں بھی شادی کی تقریبات پر رات 10 بجے کے بعد پابندی ہو گی۔
میڈیکل سٹورز اور فارمیسیز ان پابندیوں سے آزاد ہوں گے اور اپنے معمول کے مطابق کام جاری رکھیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام وزرائے اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے قومی اہمیت کے اس معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’صوبہ سندھ میں سٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے اور امید ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ جلد اس فیصلے میں شامل ہو جائیں گے۔‘

پیٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی اب براہِ راست ’ڈیجیٹل والٹس‘ کے ذریعے منتقل کی جا رہی ہے (فوٹو: ویڈیو گریب)

گلگت اور مظفرآباد میں ایک ماہ کے لیے ’انٹرا سٹی‘ پبلک ٹرانسپورٹ مفت
توانائی کی بچت کے ساتھ ساتھ عوام کو ریلیف دینے کے لیے وزیراعظم نے دو بڑے اعلانات بھی کیے ہیں جن کے مطابق گلگت اور مظفرآباد شہر میں ایک ماہ کے لیے ’انٹرا سٹی‘ (شہر کے اندر) پبلک ٹرانسپورٹ مفت ہو گی جس کے تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔
اس کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی اب براہِ راست ’ڈیجیٹل والٹس‘ کے ذریعے منتقل کی جا رہی ہے اور اب تک ایک لاکھ ٹرانزیکشنز مکمل ہو چکی ہیں۔
اس اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر احد چیمہ اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی جس میں ملک کی معاشی صورتحال اور توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

 

شیئر: