Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پیٹرول سبسڈی کا مجوزہ پلان: کیا ہر موٹر سائیکل سوار اس کا اہل ہوگا؟

پاکستان کی وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے ساتھ یہ بھی اعلان کیا ہے کہ موٹر سائیکل سواروں، متوسط طبقے اور کم آمدن والے افراد کو ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
ابتدائی طور پر وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پیٹرول پر ہر موٹر سائیکل صارف کو ماہانہ 20 لیٹر تک فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی۔
حکومت نے موٹر سائیکل سواروں کیلئے پٹرول پر ٹارگٹڈ سبسڈی کا مجوزہ پلان تیار کیا ہے جس کے تحت ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے محدود کوٹے پر رعایت دینے کی تجویز ہے، تاہم طریقہ کار، ایپ اور ادائیگی کے نظام کو تاحال حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔
حکومت کا مجوزہ پلان کیا ہے؟
حکومت کے مجوزہ پلان کے مطابق موٹر سائیکل سبسڈی موبائل ایپ یا ایس ایم ایس کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔ ایس ایم ایس کے ذریعے صارف اپنے شناختی کارڈ سے رجسٹر ہوگا، اور پیٹرول پمپ پر کیو آر کوڈ یا تصدیق کے بعد سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
اگر حکومت موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 20 لیٹر کے کوٹے پر فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دیتی ہے تو یہ قریباً دو ہزار روپے ماہانہ بنتے ہیں۔
اس حوالے سے اہلیت کا معیار کم آمدن والے افراد کے لیے ہوگا جس کے لیے موٹر سائیکل صارف کے نام پر گاڑی رجسٹر ہونا ضروری ہوگا۔ویریفکیشن نادرا اور دیگر متعلقہ ڈیٹا بیس کے ذریعے کی جائے گی۔
زیرِ غور ایک اور تجویز یہ ہے کہ سبسڈی براہِ راست پیٹرول پر دینے کے بجائے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مستحق افراد کے اکاؤنٹس میں کیش ٹرانسفر کی جائے۔
اس حوالے سے جب وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق نہیں کی کہ سبسڈی موبائل فون کے ذریعے ہی دی جائے گی۔
تاہم وزارتِ آئی ٹی کی تیار کردہ موبائل سسٹم کی ٹیسٹنگ ابھی جاری ہے، جس میں کچھ تکنیکی مسائل سامنے آئے ہیں اور وفاق و صوبوں کے درمیان اس معاملے پر اختلافات بھی بتائے جا رہے ہیں۔
’حکومت کو ڈیجیٹل نظام مضبوط کرنا ہو گا‘
اسلام آباد میں مقیم ماہرِ معیشت اور سابق وزیرِ مملکت ہارون شریف نے بتایا ہے کہ پاکستان میں ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ دنیا میں اگر کسی خاص طبقے کو سبسڈی دینا ہو تو اسے ٹارگٹڈ سبسڈی کہا جاتا ہے لیکن ہمارے پاس اس کے لیے ادارہ جاتی یا تکنیکی میکنزم موجود نہیں۔
ہارون شریف کے مطابق  پاکستان میں غریب طبقے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے پلیٹ فارم موجود ہیں لیکن اگر حکومت تمام موٹر سائیکل سواروں کو سبسڈی دینا چاہے تو اس کے لیے نظام بنانے میں وقت لگے گا۔
انہوں نے حکومت کے مجوزہ پلان میں کمزوریاں بھی ظاہر کیں اور کہا کہ کامیابی یا ناکامی پر سوالات موجود ہیں۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت پیٹرول پمپس پر سبسڈی دیتی ہے تو اسے ڈیجیٹل نظام مضبوط کرنا ہوگا، اور پمپ عملے کو اہلیت اور معیار سے آگاہ کرنا ہو گا۔
اُنہوں نے  خدشہ ظاہر کیا کہ اس نظام میں بدعنوانی یا غلط استعمال کا امکان موجود ہے مثلاً کوئی شخص اپنی گاڑی میں ڈالوانے کے لیے سبسڈی کسی اور کے ذریعے حاصل کر سکتا ہے۔
آخر میں اُن کا کہنا تھا کہ دنیا میں اس طرح کے نظام میں اکثر کوپن سسٹم یا ریشننگ استعمال ہوتا ہے، جو شناختی کارڈ سے منسلک ہوتا ہے۔ صارف پیٹرول پمپ پر نقد ادائیگی کے بجائے کوپن استعمال کرتا ہے، اور اسی کے بعد اسے پیٹرول فراہم کیا جاتا ہے۔

 

شیئر: