Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران اور امریکہ کو فوری جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے سے متعلق پلان موصول: ذرائع

صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈیڈلائن کے بعد ایران کے پلوں اور اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی دھمکی دے چکے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران اور امریکہ کو جنگ کے خاتمے کے حوالے سے پلان موصول ہوا ہے جو پیر کے روز سے نافذالعمل ہو سکتا ہے اور آبنائے ہرمز بھی کھل سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے بنایا گیا فریم ورک راتوں رات امریکہ اور ایران کو بھجوایا گیا۔
سورسز کا کہنا ہے کہ اس میں فوری جنگ بندی کے علاوہ جامع معاہدے کا خاکہ بھی شامل ہے۔
سورسز کے مطابق ’تمام فریقوں کو اس پر اتفاق کرنے کی ضرورت ہے، ابتدائی بات چیت کو ایک مفاہتی یادداشت کے طور پر تشکیل دیا جائے گا اور اس کو پاکستان کے ذریعے حتمی شکل دی جائے گی جو وہ واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے بات چیت ہو رہی ہے۔‘
سورس نے روئٹرز کو بتایا کہ پاکستان فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ’رات بھر‘ رابطے میں رہے۔
اس میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ جنگ بندی فوری طور پر نافذالعمل ہو گی جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ساتھ ساتھ تصفیے کے حل کے لیے 15، 20 دن میں حتمی معاہدے کی طرف بڑھا جائے گا جسے عارضی طور پر ’اسلام آباد معاہدے‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اس میں آبنائے ہرمز کے لیے ایک علاقائی فریم ورک بھی شامل ہو گا، جس کے بارے میں حتمی بات چیت اسلام آباد میں ہو گی۔
اس بارے میں امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی اس پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔

28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے بعد سے لڑائی جاری ہے (فوٹو: روئٹرز)

 

طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ’45 روزہ جنگ بندی کی پیشکش یا 15 نکاتی تبادلے سے متعلق متعدد رپورٹس سامنے آئی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم انفرادی اور مخصوص واقعات پر تبصرہ نہیں کرتے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ امن کا عمل جاری ہے۔‘

اس سے قبل ایران کے حکام نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ تہران اس ضمانت کے ساتھ مستقل جنگ بندی کا خواہاں ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اس پر دوبارہ حملے نہیں کریں گے اور اس بارے میں اسے پاکستان، ترکی اور مصر سمیت دوسرے ثالثوں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
ذرائع کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حتمی معاہدے میں پابندیوں میں ریلیف اور منجمد اثاثوں کی رہائی کے بدلے میں جوہری ہتھیار نہ بنانے کے ایرانی وعدے شامل ہونے کی توقع ہے۔
اس سے قبل امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے کہا تھا کہ امریکہ، ایران اور علاقائی ثالث ممکنہ طور پر 45 روز کی جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کر رہے ہیں اور ان کی بدولت آگے چل کر جنگ کا مکمل خاتمہ بھی ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں امریکی، اسرائیلی اور خطے کے سورسز کا حوالہ دیا گیا جو بات چیت کے بارے میں واقفیت رکھتے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا تھا کہ وہ فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کرا سکا ہے اور ادارے کی جانب سے وائٹ ہاؤس اور وزارت خارجہ کی جانب سے تبصرے کے لیے بھجوائی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا گیا۔

سورسز کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں رہے (فائل فوٹو: آئی ایس پی آر)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ثالث دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کی شرائط پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں جن میں پہلا مرحلہ 45 روز کی جنگ بندی پر مشتمل ہو گا اور اس کے دوران جنگ کے مستقل خاتمے کے حوالے سے بات چیت جاری رکھی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق بات چیت میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ اگر مذاکرات کے لیے اضافی وقت درکار ہوا تو جنگ بندی میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو وال سٹریٹ سے بات چیت کرتے ہوئے ایران کو ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے پاس آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے منگل کی شام تک کا وقت ہے اور اس کے بعد اس کو اہم انفراسٹرکچرز پر تباہ کن حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

شیئر: