Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خطہ اب ’امریکی اڈوں کے لیے مزید ڈھال‘ کا کام نہیں کرے گا: ایرنی سپریم لیڈر

مارچ میں عہدہ سنبھالنے والے مجتبیٰ خامنہ ای ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک اب امریکی اڈوں کے لیے مزید ڈھال کا کام نہیں کریں گے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کو جاری کیے گئے ایک تحریری بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ’اس سلسلے میں جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ وقت کے ہاتھ پیچھے نہیں ہٹیں گے اور خطے کے ملک اور زمینیں اب اڈوں کے لیے کام نہیں کریں گی۔‘
مجتبیٰ خامنہ ای نے مارچ میں عہدہ سنبھالا تھا اور تب سے وہ عوام کے سامنے نہیں آئے ہیں۔
ان کے مطابق ’امریکہ کے پاس خطے میں جارحیت اور فوجی اڈوں کے قیام کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ موجود نہیں ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ اپنی پچھلی پوزیشن سے دور ہوتا جا رہا ہے۔‘
یہ ریمارکس ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران پر 28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کے حملوں سے چھڑنے والی جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں ہو رہی ہیں جبکہ آٹھ اپریل کو ہونے والی جنگ بندی برقرار ہے تاہم اس کو نازک قرار دیا جاتا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن نے جنگ کے خاتمے اور معاہدے تک پہنچنے کے لیے بہت سے معاملات پر سمجھوتہ کر لیا ہے تاہم ساتھ یہ خبردار بھی کیا ہے کہ ’معاہدے کا طے پا جانا ابھی قریب نہیں۔‘
منگل کو ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے کہا گیا کہ انہوں نے امریکہ کا ڈرون مار گرایا ہے جبکہ ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دوسرے طیاروں پر بھی فائرنگ کی ہے تاہم یہ تفصیل نہیں بتائی کہ یہ واقعات کب رونما ہوئے۔
پاسداران نے انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ ’جارح امریکی فوج کی طرف سے جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے بدلے کو جائز اور قانونی سمجھتے ہیں۔‘
پیر کو امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس کی فورسز نے ایران میں ایسے مقامات پر حملے کیے جہاں میزائل موجود تھے جبکہ ایسی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا جو بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
ایران نے باضابطہ طور پر امریکی حملے کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم سرکاری میڈیا کے ذریعے سورس کی وضاحت کیے بغیر یہ بتایا گیا ہے کہ جنوبی علاقے کے بندرگاہی شہر میں دھماکے ہوئے ہیں۔
56 سال کے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے والد علی خامنہ ای کے بعد یہ عہدہ ملا ہے جو کہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے کیے گئے ابتدائی حملوں میں نشانہ بن گئے تھے اور اس کے بعد تہران نے پورے خطے میں جوابی حملے شروع کر دیے تھے۔

شیئر: