Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’وقوفِ عرفہ کے مناظر ٹی وی پر دیکھا کرتا، خوش قسمتی سے آج خود یہاں موجود ہوں‘

اورنگزیب خان نے کہا کہ سعودی حکومت کی جانب سے حجاج کو فراہم کی جانے والی سہولیات مثالی ہیں (فوٹو: اردو نیوز)
جبل الرحمہ کے دامن میں جہاں حجاج دنیا سے بے گانہ ہو کر دعاؤں میں مصروف تھے وہاں موجود خیبر پختونخوا ک ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے اورنگزیب خان بھی ہاتھوں کو بلند کیے دعاؤں میں مشغل تھے۔
دریافت کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ ’اس مقدس ترین مقام پر اور آج کے متبرک دن ہم وطن عزیز کے لیے خاص طور پر دعا گو ہیں کہ رب کریم ہمارے ملک کو دشمنوں سے محفوظ رکھے اور ترقی و استحکام عطا کرے۔‘
میدانِ عرفات میں اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اورنگزیب خان نے مزید بتایا کہ سال 2009 میں پہلی بار حج کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔ اس وقت بھی کافی سہولیات تھیں مگر اب تو یہاں کا منظرنامہ ہی یکسر تبدیل ہو چکا ہے، سعودی حکومت کی جانب سے حجاج کے لیے اتنے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں جن کی مثال ملنا مشکل ہے۔‘
علی اکبر خان جو سال رواں پہلی بار فریضہ حج ادا کررہے ہیں کا کہنا تھا کہ ’وقوف عرفہ کے مناظر ٹی وی پر ہی دیکھا کرتا تھا، آج قسمت سے میں بھی یہاں موجود ہوں۔ اس پر رب کریم کا جتنا شکر ادا کروں وہ کم ہے۔ حج ادا کرنے کی بڑی خواہش تھی لیکن یہی کہوں گا کہ جب نصیب میں ہوتا ہے تو معاملات از خود آسان ہوجاتے ہیں۔‘

اورنگزیب خان نے کہا کہ سنہ 2009 کے مقابلے میں اب سہولتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا (فوٹو: اردو نیوز)

ساجد علی زیب کا تعلق بھی پاکستان سے ہے مگر وہ اٹلی میں مقیم ہیں اور فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رب کریم نے ہمیں یہ سعادت عطا کی اور آج ہم جبلِ رحمہپہاڑ کے دامن میں موجود ہیں۔ میری کوشش تھی کہ جوانی میں ہی زندگی کا اہم ترین فریضہ ادا کروں اور رب کریم نے میری خواہش کو پورا کیا، کیونکہ حج میں جسمانی مشقت بھی ہوتی ہے۔ اسی لیے بہتر ہوتا ہے کہ انسان جوانی میں ہی یہ فریضہ ادا کرلے تاکہ تمام مناسک کو بخوبی ادا کر سکے۔‘

شیئر: