حج میں مسلمانوں کے درمیان تعاون، ہم آہنگی اور یکجہتی دیکھنے میں آتی ہے: خطبۂ حج
مسجدِ نمرہ میں خطبۂ حج دیتے ہوئے مسجد ِنبوی کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن الحذیفی نے کہا کہ ’اللہ کا تقویٰ تم پر لازم ہے، تقویٰ ہی آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان لو کہ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔‘
منگل کو خطبہ حج میں انہوں نے کہا کہ ’اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے میں یہ بھی ہے کہ نیکیاں کرکے، گناہوں اور برائیوں کو چھوڑ کر قیامت کے دن کی تیاری کی جائے۔‘
’اللہ کا فرمان ہے کہ صبر کرنے والوں کو بے شمار اجر دیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کیا جائے۔‘
شیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن الحذیفی نے خطبۂ حج میں مزید کہا کہ’ آخرت کی تیاری کا سب سے عظیم ذریعہ توحید بجالانا، صرف اللہ کی عبادت کرنا اور اس کے سوا کسی کو نہیں پکارنا ہے۔‘
انہوں خطبے میں مزید کہا کہ ’حج کی ادائیگی کے لیے حجاج دور دراز راستوں سے آئے تاکہ وہ اللہ کو خوش کریں اور اس کا اجر و ثواب حاصل کریں۔‘
مسجد ِنبوی کے امام و خطیب نے کہا کہ ’جب عازمین مناسک حج ادا کرتے ہیں تو زبان، رنگ اور ملک مختلف ہونے کے باوجود وہ آپس میں محبت کرنے والے بھائی بھائی بن جاتے ہیں۔ تعارف، ہم آہنگی، تعاون اور یکجہتی کے مظاہر دیکھنے میں آتے ہیں۔‘

شیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن الحذیفی نے کہا کہ ’کوشش ہو کہ سکون و اطمینان برقرار رکھیں، نرمی کا معاملہ کریں، منتظم اداروں کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ جانوں کی حفاظت ہو اور مناسک کی ادائیگی کو آسان بنایا جا سکے۔‘
خطبہ حج میں کہا گیا کہ ’اللہ سے مضبوط تعلق کا ایک اہم ذریعہ یہ ہے کہ خصوصاً حج کے مقامات پر خوب دعائیں کی جائیں، کیونکہ یہاں دعا کی قبولیت کی امید زیادہ ہوتی ہے۔‘
’ حج میں کسی جھگڑے اور سیاسی نعروں کی گنجائش نہیں، بلکہ حج، اللہ کے سامنے جھک جانا، نبی کریم کی پیروی کرنا، پاکیزگی، عہد و پیمان کی پاسداری اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا ہے۔‘

انہوں نے دعا کی کہ ’اے اللہ، مسلمانوں کے حالات درست فرما، انہیں حق پر متحد کر دے اور ان کے دینی و دنیوی حالات سنوار دے۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دنیا و آخرت میں بہترین اجر دے، انہوں نے تیرے بندوں کے ساتھ بھلائی کی، عازمین کے لیے حج کی ادائیگی کو آسان کیا۔ حرمین شریفین اور ان کے زائرین کی خدمت میں سخاوت سے خرچ کیا۔‘
