حج میں مسلمانوں کے درمیان تعاون، ہم آہنگی اور یکجہتی دیکھنے میں آتی ہے: خطبہ حج
مختلف زبان، رنگ اور ملک ہونے کے باوجود آپس میں بھائی بھائی بن جاتے ہیں۔
مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے مسجد ِنبوی کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان الحذیفی نے کہا کہ ’اللہ کا تقویٰ تم پر لازم ہے، تقوی ہی آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان لو کہ اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اللہ کا تقوی اختیار کرنے میں یہ بھی ہے کہ نیکیاں کرکے، گناہوں اور برائیوں کو چھوڑ کر قیامت کے دن کی تیاری کی جائے۔‘
’اللہ کا فرمان ہے صبر کرنے والوں کو بے شمار اجر دیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کیا جائے۔‘
‘انہوں نے خطبۂ حج میں مزید کہا کہ’ آخرت کی تیاری کا سب سے عظیم ذریعہ توحید بجالانا، صرف اللہ کی عبادت کرنا اور اس کے سوا کسی کو نہیں پکارنا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’حج کی ادائیگی کے لیے حجاج دور دراز راستوں سے آئے تاکہ وہ اللہ کو خوش کریں اور اس کا اجر و ثواب حاصل کریں۔‘
’ جب عازمین مناسک حج ادا کرتے ہیں تو زبان، رنگ اور ملک مختلف ہونے کے باوجود وہ آپس میں محبت کرنے والے بھائی بھائی بن جاتے ہیں۔ تعارف، ہم آہنگی، تعاون اور یکجہتی کے مظاہر دیکھنے میں آتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا ’ کوشش ہو کہ سکون و اطمینان برقرار رکھیں، نرمی کا معاملہ کریں، منتظم اداروں کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ جانوں کی حفاظت ہو اور مناسک کی ادائیگی کو آسان بنایا جاسکے۔‘
خطبہ حج میں کہا گیا کہ’ اللہ سے مضبوط تعلق کا ایک اہم ذریعہ یہ ہے کہ خصوصا حج مقامات پر خوب دعائیں کی جائیں، کیونکہ یہاں دعا کی قبولیت کی امید زیادہ ہوتی ہے۔‘
انہوں نے دعا کی’ اے اللہ، مسلمانوں کے حالات درست فرما، انہیں حق پر متحد کر دے اور ان کے دینی و دنیوی حالات سنوار دے۔‘
’ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دنیا و آخرت میں بہترین اجر دے، انہوں نے تیرے بندوں کے ساتھ بھلائی کی، عازمین کے لیے حج کی ادائیگی کو آسان کیا۔ حرمین شریفین اور ان کے زائرین کی خدمت میں سخاوت سے خرچ کیا۔‘
