Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بارش یا گرمی؟ پاکستان میں عیدالاضحیٰ کے دنوں میں موسم کیسا رہے گا؟

26 مئی سے 31 مئی تک ملک کے بیشتر حصوں میں گرمی کی شدید لہر کا امکان ظاہر کیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) نے اگلے چھ روز کے موسم سے متعلق پیش گوئی کی ہے جس میں عید کے ایام بھی آتے ہیں۔
منگل کو جاری ہونے والے بیان میں این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے متوقع موسمی صورتحال کا جائزہ پیش کیا ہے۔
بیان میں آج سے 31 مئی تک درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ’مختلف علاقوں میں درجہ حرارت 40 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر گرمی کی شدت میں اضافے اور دیگر ممکنہ خدشات کے پیش نظر قومی سطح پر تیاریوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
این ڈی ایم اے کی ہدایات کی روشنی میں کسی بھی قسم کے نقصان سے بچنے کے لیے پیشگی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
این ڈی ایم اے کی ہدایت کے مطابق صوبوں نے عوامی آگاہی مہم کا آغاز کر دیا ہے جن میں ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کی تعیناتی، کولنگ سینٹرز کی تشکیل اور طبی سہولتوں کو بہتر بنانا شامل ہے۔
سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں گرمی کی شدید لہر متوقع ہے تاہم مغربی ہواؤں کے زیرِ اثر خطہ پوٹھوہار میں ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شدید گرمی کی وجہ سے گلگت بلتستان، بالائی خیبر پختونخوا، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پہاڑی علاقوں میں تیزی سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں جس سے سیلاب کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔

زیادہ درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز پگھلنے اور سیلاب کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اسی طرح ہنزہ، نگر، گلگت، چلاس، استور، شگر، چترال، کالام، بالائ کوہستان، اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں جبکہ شمشال، عطا آباد جھیل، کریم آباد، گلمیت ششکت بالا اور پاسو کے درمیان رابطہ سڑکوں کو حساس قرار دیا گیا ہے۔
شگر ویلی روڈ، سکردو روڈ، دیوسائی روڈ اور شاہرائے قراقرم لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راستے بند ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز اور گلیشیائی جھیلوں کے ٹوٹنے کے باعث درکوٹ، لاشٹ، ریشن، بونی، بد سوات، شسپر، گلگن، ہنارچی، روشن اور کمراٹ کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
اسی طرح شمالی علاقوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز کے باعث پہاڑی ندی نالوں اور دریاؤں میں بھی طغیانی کے امکانات ہیں اور ہنزہ، غزر، دیامیر، استور، گھانچے، شگر، چترال، دیر، سوات اور کوہستان میں سیلابی کیفیت بننے کے خدشات ہیں۔

این ڈی ایم اے نے اداروں کو موسم کی مناسبت سے انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے (فوٹو: این ڈی ایم اے)

وسطی اور مشرقی سندھ کے علاقوں میں درجہ حرارت بڑھنے کا امکان موجود رہے گا ان علاقوں میں جیکب آباد، کمبر شہداد کوٹ، دادو جام شورو، خیرپور، سانگھڑ، عمرکوٹ، سکھر، گوٹکی اور میرپور خاص شامل ہیں۔
مغربی اور مشرقی بلوچستان کے علاقے بشمول چاغی، واشوک، خاران، تربت، ڈیرہ مراد جمالی، استا محمد، سبی، لہری، نصیر آباد اور جعفر آباد شدید گرمی کے لپیٹ میں رہیں گے۔
اسی طرح وسطی، شمالی اور مشرقی پنجاب کے علاقے بشمول ملتان، لودھراں، رحیم یار خان، بہاولپور، بہاولنگر، ٹوبہ ٹیک سنگ، جھنگ، مظفرگڑھ، بھکر، لیہ، لاہور، ساہیوال اور قصور میں گرمی کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی اقدامات اور پیشگی تیاری یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں۔

شیئر: