Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض میں ’بلیک گولڈ میوزیم‘ کا افتتاح، 350 سے زیادہ فن پارے

سعودی وزیر توانائی اور وزیر ثقافت نے میوزیم کا افتتاح کیا ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ نے ریاض میں ’بلیک گولڈ میوزیم‘ کا افتتاح کیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق میوزیم کو مملکت کے ثقافتی منظر نامے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا منفرد میوزم ہے۔
جس میں تیل کی دریافت اور اس کے انسانی زندگی پر گہرے اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
میوزیم میں آنے والے وزیٹرز کو ایک نئے اور انٹرایکٹو طریقے سے ’بلیک گولڈ‘ کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ’ یہ میوزیم ثقافتی نظام اور توانائی کے شعبے کے باہمی تعاون کا نتیجہ ہے، جو پیٹرولیم کی تاریخ اورانسانی  زندگی کے مختلف پہلووں پر پڑنے والے اثرات کا جامع جائزہ پیش کرتا ہے۔‘

وزیر ثقافت شہزادہ بند بن عبداللہ کا کہنا تھا ’بلیک گولڈ‘ میوزیم  فنون اورعالمی ثقافتی مکالمے میں ایک اہم اضافہ ہے، جس سے تیل کے حوالے سے بہت کچھ جانا جاسکتا ہے۔
یہ دیگر روایتی عجائب گھروں سے مختلف ہے۔ میوزیم میں 350 سے زائد فن پارے رکھے گئے ہیں، جو 30 سے زیادہ ممالک کے 170 کے قریب معروف سعودی و عالمی فنکاروں کی تخلیقات پرمشتمل ہے۔
ان میں منال الضویان، احمد ماطر، مہنگ شونو، محمد الفرج ، ایمن زیدانی، ڈوگ ایٹکن ، جمی ڈرھم، ڈینس ہوپر، الفریدو جار، رینو لائریک ، پاسکل مارٹن اور اینڈی واومن شامل ہیں۔

میوزیم چار حصوں پر مشتمل ہے، جن میں ’اللقاء، لاحلام ، الشکوک اور الروی شامل ہیں۔
اللقاء سیکشن میں 19 ویں صدی کے وسط میں تیل کی دریافت اور ابتدائی استعمال کو اجاگر کیا گیا ہے۔
جبکہ الاحلام ، میں تیل کےذریعے ہونے والی معاشرتی تبدیلیاں اور ترقیاتی امور کی خواہشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
الشکوک، میں تیل کے اثرات اور اس پر انسانی انحصار کا مطالعہ پیش کیا گیا جبکہ الروی میں مستقبل کے دروازے اور امکانات پرروشنی ڈالی گئی ہے۔

 

شیئر: