Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے میزائل اور دیگر خطرناک ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے: امریکی وزیرِ جنگ

امریکہ کے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ جنگ میں ایران کے میزائل اور دیگر خطرناک ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے بدھ کے روز صحافیوں کو بریفنگ میں بتایا کہ ہم نے ایران کے دفاعی صنعتی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، جو ہمارے مشن کا بنیادی ہدف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب میزائل نہیں بنا سکتا، راکٹ نہیں بنا سکتا، لانچر نہیں بنا سکتا یا ڈرون نہیں بنا سکتا، اُس کی فیکٹریوں کو تباہ کر دیا گیا ہے جس سے اُس کی دفاعی صلاحیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے پر رضامند نہ ہونے کی صورت میں تباہ کُن حملے کرنے کی دھمکی کے بعد پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ اگر ایران ہماری شرائط سے انکار کرتا تو اگلا ہدف اُس کے پاور پلانٹس، اُس کے پُل اور تیل اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ ہوتا۔‘
پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ بریفنگ میں موجود امریکہ کے اعلٰی فوجی افسر جنرل ڈین کین نے بھی ایران کی دفاعی صنعت کی تباہی کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔
جنرل ڈین کین کا کہنا تھا کہ ایران کے ہتھیاروں کی 90 فیصد فیکٹریوں، اس کے میزائلوں کی 80 فیصد سے زائد تنصیبات اور اس کی جوہری صلاحیت کے قریباً 80 فیصد مراکز اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔
اُن کے مطابق یک طرفہ حملہ کرنے والے شاہد ڈرون تیار کرنے والی ہر فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے جنگ کے دوران یہ ہتھیار بار بار استعمال کیا تھا، اور یہ ڈرون اس نے یوکرین کے خلاف استعمال کے لیے رُوس کو بھی فراہم کیے تھے۔
جنرل ڈین کین نے بریفنگ کے دوران مزید بتاہا کہ امریکی افواج نے جنگ کے دوران مجموعی طور پر 13 ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا۔ 
ان حملوں میں ایران کا 80 فیصد فضائی دفاعی نظام ختم ہو گیا، اس کے ساتھ ساتھ بیلسٹک میزائلوں کو ذخیرہ کرنے کی 450 سے زائد تنصیبات اور شاہد ڈرون کو ذخیرہ کرنے کی 800 سہولیات کو بھی تباہ کر دیا گیا
امریکی جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی ایک عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے، تاہم
مشترکہ فوج کو اگر بلایا گیا تو کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
اس موقعے پر پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا کہ ہم جنگ بندی کے پس منظر میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں کہ ایران شرائط پر عمل کرے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانے جا رہے ہیں کہ ایران اس جنگ بندی کی تعمیل کرے اور بالآخر میز پر آئے اور معاہدہ کرے۔
پینٹاگون کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے افزودہ یورینیم کے معاملے کو بھی دیکھ رہا ہے جسے اس نے گذشتہ برس حملوں میں نشانہ بنایا تھا، اور اگر ایران اسے ترک نہیں کیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
 

شیئر: