جنگ بندی کے اعلان پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں نمایاں کمی، سٹاک مارکیٹس میں تیزی
ایران جنگ کی وجہ سے اکثر ممالک کو تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کرنا پڑا: فائل فوٹو اے ایف پی
امریکہ اور ایران میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ سٹاک مارکیٹس کا آغاز مثبت ٹرینڈز کے ساتھ ہوا ہے۔
بدھ کو مارکیٹ کھلنے پر تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہے اور اب سے کچھ دیر پہلے تک برینٹ فیوچرز14.51 ڈالر یا 13.3 فیصد گر کر 94.76 ڈالر فی بیرل پر آ گیا ہے۔
ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ اور آبنائے ہرمز بند ہونے کے نتیجے میں مارچ میں تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
دوسری جانب جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستان سمیت عالمی بازارِ حصص میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مشرقٰ وسطی کی مارکیٹس مبثت ٹرینڈ کے ساتھ کھلی ہیں اور اب سے کچھ دیر پہلے دبئی کی سٹاک مارکیٹ میں 8.5 فیصد اضافہ ہوا ہے جو بلومبرگ کے مطابق دسمبر 2014 کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔
توانائی کے ماہر ٹونی سیمور نے آبنائے ہرمز کھلنے کے حوالے سے بتایا کہ یہ ایک اچھی شروعات ہیں اور مستقل طور پر اس کے کھلنے کی راہ ہموار ہو گی۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران پر تباہ کن حملے شروع کرنے کی دھمکیوں کی ڈیڈ لائن سے تقریبا دو گھنٹے پہلے جنگ بندی پر مشروط آمادگی ظاہر کردی۔
امریکہ اور ایران دونوں دو ہفتے کے لیے جنگ بندی کی پاکستانی تجویز پر رضامند ہو گئے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا ’فوری جنگ بندی باہمی ہو گی۔ ہمیں ایران کی طرف سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جو ہمارے خیال میں مذاکرات کی عملی بنیاد ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ فوری جنگ بندی کا معاہدہ ایران کے آبنائے ہرمز کو مکمل اور فوری کھولنے کے معاہدے پر منحصر ہے۔‘