Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران، امریکہ جنگ بندی کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو ایران کی طرف سے ’10 نکاتی تجاویز‘ موصول ہوئی ہیں جو ’قابلِ عمل‘ ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
ایران اور امریکہ نے دو ہفتوں کے لیے مشروط جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جس کے دوران آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی اجازت ہوگی، حملے بند رہیں گے اور دونوں فریق تنازع کے مستقل حل کے لیے کوششوں پر کام کریں گے۔
عرب نیوز کے مطابق پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو کہا کہ ایران اور امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ ’لبنان سمیت دیگر مقامات پر فوری اور مؤثر جنگ بندی‘ پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے دونوں فریقین کو جمعہ کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے وفود بھیجنے کی دعوت دی تاکہ تنازع کا حتمی حل نکالا جا سکے۔
انہوں نے ایک پیغام میں کہا کہ ’دونوں فریقین نے حیرت انگیز فہم اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری بات چیت میں شامل رہے ہیں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے بدھ کی صبح کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ایران کی ’تہذیب‘ کو مٹانے کی دھمکی دی تھی، نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ بندی ’مکمل فتح‘کی نمائندگی کرتی ہے، لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا امریکہ ایرانی شہری انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی اپنی سابقہ دھمکیوں پر عملدرآمد کرے گا یا نہیں۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے ٹروتھ سوشل پر شائع کی گئی ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کے کھلنے تک اپنی ’تباہ کن طاقت‘ کو استعمال کرنے سے گریز کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ دو طرفہ جنگ بندی ہوگی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے پہلے ہی تمام فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے حتمی معاہدے کے بہت قریب ہیں۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو ایران کی طرف سے ’10 نکاتی تجاویز‘ موصول ہوئی ہیں جو ’قابلِ عمل‘ ہیں اور ماضی کے تمام متنازع نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کے ثالثی اقدامات پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے ایران کی 10 نکاتی تجویز کو مستقبل کے مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کر لیا ہے اور ایران کی مسلح افواج ’دفاعی کارروائیاں روک دیں گی‘ تاکہ مذاکرات مکمل ہو سکیں۔
عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایران نے امریکہ کی 15 نکاتی تجاویز وصول کر لی ہیں اور تکنیکی حدود میں رہتے ہوئے آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے گا۔
انہوں نے بیان میں کہا کہ ’اگلے دو ہفتوں کے دوران ایران کی مسلح افواج کے ساتھ رابطے کے بعد آبنائے ہرمز سے محفوظ نقل و حرکت ممکن ہو گی۔‘

دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز سے جہازوں کو نقل و حرکت کی اجازت ہوگی (فوٹو: اے ایف پی)

برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ ان کا ملک جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے لیکن اس معاہدے میں ’لبنان شامل نہیں ہے‘۔ اس بیان سے قبل پاکستانی وزیراعظم نے زور دیا تھا کہ لبنان بھی جنگ بندی میں شامل ہے اور وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے روئٹرز کو تصدیق کی کہ اسرائیل نے جنگ بندی کی شرائط قبول کر لی ہیں۔
مجوزہ تجاویز کیا ہیں؟
اب تک امریکا کے 15 نکاتی منصوبے یا ایران کے 10 نکاتی منصوبے کا کوئی سرکاری شائع شدہ ورژن دستیاب نہیں ہے، لیکن دونوں منصوبے مختلف ہو سکتے ہیں۔ تاہم، ٹرمپ نے بدھ کو تصدیق کی کہ ایران کا 10 نکاتی منصوبہ مذاکرات کی بنیاد بنے گا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ منصوبے میں آبنائے ہرمز کی گزرگاہ پر ایران کے کنٹرول، ایران اور اس کی علاقائی پراکسی فورسز پر حملوں کو روکنا، امریکی افواج کی خطے سے واپسی، ہرجانے کی ادائیگی، پابندیوں کا خاتمہ، اثاثوں کو غیر منجمد کرنا، اور کسی امن معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے اقوامِ متحدہ کی قرارداد شامل ہے۔
ایران کے بھارت میں سفارت خانے نے ایکس پر لکھا کہ ان دس نکات میں آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو قبول کرنا، افزودگی کی اجازت دینا، اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی شامل ہے۔
سی این این نے امریکہ کے حوالے سے دو علاقائی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 15 نکاتی امریکی منصوبے میں ایران کا جوہری ہتھیار نہ بنانے کا عہد، اپنے اعلیٰ افزودہ یورینیم تک رسائی دینا، تہران کی دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنا، علاقائی پراکسی گروپوں کو ختم کرنا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔
ایران نے پہلے اس 15 نکاتی منصوبے کو ’غیر حقیقی اور غیر معقول‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

شیئر: