Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ اُن کی نوعمر صاحب زادی اُن کی جانشین ہو سکتی ہیں؟

شمالی کوریا کے رہنما 42 سالہ کم جونگ اُن اپنی جانشینی کا اعلان کرنے کے لیے بہت کم عمر ہیں (تصویر: اے پی)
جنوبی کوریا کے ایک خفیہ ادارے نے کہا ہے کہ اب یہ کہنا مناسب ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی نابالغ بیٹی ہی اُن کی جانشین ہیں، جو اس نوعمر لڑکی کے بڑھتے ہوئے سیاسی قد کاٹھ کے حوالے سے ادارے کا اب تک کا سب سے مضبوط اندازہ ہے۔ ادارے کا خیال ہے کہ یہ نوعمر لڑکی اپنے خاندان کے اقتدار کو چوتھی نسل تک بڑھا سکتی ہے۔
عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کا ریاستی میڈیا اس نوعمر لڑکی کو کم جونگ اُن کی ’محبوب ترین‘ یا ’عزت مآب‘ اولاد قرار دیتا ہے جو 2022 کے اوآخر سے متعدد اعلیٰ سطحی تقریبات میں اپنے والد کے ساتھ شریک ہو چکی ہیں، جس سے بیرونی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں شروع ہوئیں کہ انہیں شمالی کوریا کے مستقبل کی رہنما کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔
پیر کے روز جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ایک قانون ساز لی سونگ کواں نے کہا کہ ایک بند کمرے میں ہونے والی بریفنگ کے دوران اس بارے میں قانون سازوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس (این آئی ایس) کے ڈائریکٹر لی جونگ-سوک نے کہا کہ نوعمر لڑکی کو کم جونگ اُن کا جانشین سمجھا جا سکتا ہے۔
قانون ساز لی سونگ کواں نے بریفنگ میں بتایا کہ این آئی ایس کے ڈائریکٹر سے جب کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ کے ایسی کسی تعیناتی پر ممکنہ ردِعمل کے بارے میں استفسار کیا گیا، جو طویل عرصے سے شمالی کوریا کی دوسری طاقت ور ترین شخصیت سمجھی جاتی رہی ہیں، تو انہوں نے کہا کہ ’ان کے پاس کوئی حقیقی اختیارات نہیں ہیں۔‘ انہوں نے این آئی ایس کی’قابلِ اعتماد معلومات‘ کا حوالہ دیا۔
یہ این آئی ایس کا نوعمر لڑکی کی حیثیت کے حوالے سے ایک مضبوط اندازہ ہے۔ ادارے نے 2024 کے اوائل میں لڑکی کو اپنے والد کا ممکنہ جانشین قرار دیا تھا، جو شمالی کوریا کے مستقبل کی رہنما کے طور پر کی جا رہی ان کی تربیت کے حوالے سے ایسا اولین سرکاری تجزیہ تھا۔ ادارے نے اسی سال فروری میں کہا کہ اسے لگتا ہے کہ وہ نوعمر لڑکی کو ملک کے مستقبل کی رہنما کے طور پر مقرر کرنے کے قریب ہیں۔
کچھ مبصرین این آئی ایس کے ان اندازوں سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شمالی کوریا کا انتہائی پدرسری معاشرہ ممکنہ طور پر کسی خاتون رہنما کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 42 سالہ کم جونگ اُن اپنی جانشینی کا اعلان کرنے کے لیے بہت کم عمر ہیں، جو ان کی اقتدار پر گرفت کو کمزور کر سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق لڑکی کی عمر تقریباً 13 سال بتائی گئی ہے اور نام کم جو اے ہے، لیکن شمالی کوریا کے ریاستی میڈیا نے اس طرح کی ذاتی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ نوعمر لڑکی کے نام کی اطلاع سابق این بی اے سٹار ڈینس راڈ مین کے بیان پر مبنی ہے، جنہوں نے 2013 میں پیانگ یانگ کے دورے کے دوران کم جونگ اُن کی بچی کو گود میں اُٹھایا تھا۔

شمالی کوریا کا ریاستی میڈیا نوعمر لڑکی کو کم جونگ اُن کی ’سب سے محبوب‘ اولاد قرار دیتا ہے (تصویر: اے ایف پی)

1948  میں قائم ہونے والی ریاست شمالی کوریا میں ہمیشہ سے خاندان کے مردوں نے اقتدار سنبھالا ہے۔ کم جونگ اُن نے اپنے والد کم جونگ ایل کی 2011 کے آخر میں وفات کے بعد اقتدار حاصل کیا۔ کم جونگ ایل نے اپنے والد اور ریاست کے بانی کم ایل سونگ کی 1994 میں وفات کے بعد اقتدار سنبھالا۔
نوعمر لڑکی حالیہ دنوں میں اُس وقت عوامی منظرنامے میں نمایاں دکھائی دیں جب انہوں نے اپنے والد کی نگرانی میں فوجی تربیت کے دوران ٹینک چلایا اور دونوں نے بارود کی فیکٹری کے دورے پر پستول چلائے۔
قانون ساز لی سونگ کواں نے بتایا کہ این آئی ایس نے پیر کی بریفنگ میں کہا کہ شمالی کوریا کی حکومت نے ایسی عوامی تقریبات کا انعقاد کیا تاکہ لڑکی کی فوجی قابلیت کو بڑھایا جا سکے اور ’خاتون جانشین کے بارے میں موجود شکوک و شبہات کو کم کیا جا سکے۔‘
اجلاس میں شریک ایک اور قانون ساز پارک سون وون نے لڑکی کی حالیہ فوجی تقریبات میں شرکت کے حوالے سے این آئی ایس کے اندازوں سے ملتی جلتی رائے ہی دی۔

شیئر: