ایران کے ساتھ جنگ بندی ایک ’نازک‘ معاہدہ، صدر ٹرمپ پیش رفت کے لیے بے چین ہیں: امریکی نائب صدر
ایران نے جنگ بندی معاہدے کو ناکام بنانے کی کوشش کی تو یہ اس کے لیے اچھا نہیں ہو گا: جے ڈی وینس (تصویر: روئٹرز)
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے بدھ کو ایران کے ساتھ ایک ’نازک جنگ بندی‘ معاہدے کا خیرمقدم کیا اور تہران پر زور دیا کہ وہ ’نیک نیتی‘ کے ساتھ مذاکرات کرے تاکہ ایک طویل المدت معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسے شخص نہیں ہیں جنہیں بے وقوف بنایا جا سکے۔
عرب نیوز کے مطابق انہوں نے یہ بیان امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق رائے پیدا ہونے کے بعد دیا، جس کا اعلان صدر ٹرمپ کی اس ڈیڈلائن سے کچھ دیر پہلے کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ یا تو معاہدہ کیا جائے یا پھر تباہی کا سامنا کیا جائے۔
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ جب تک باقاعدہ شرائط طے نہیں ہو جاتیں، جنگ ختم نہیں ہوئی۔
جے ڈی وینس نے بڈاپسٹ (ہنگری) کے دورے کے دوران کہا کہ ’ایرانی قیادت اگر نیک نیتی کے ساتھ ہمارے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہے، تو میرا خیال ہے کہ ہم ایک معاہدہ کر سکتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ایرانی اگر مذاکرات کی میز پر نہ آتے، تو ’انہیں معلوم ہو جاتا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا صدر کوئی ایسا شخص نہیں جس سے کھیل کھیلا جا سکے۔ وہ (صدر ٹرمپ) بے صبر ہیں، اور پیش رفت کے لیے بے چین ہیں۔‘
امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ’ہمارے پاس اب بھی واضح فوجی اور سفارتی طاقت موجود ہے، اور شاید سب سے بڑھ کر ہمارے پاس غیرمعمولی معاشی دباؤ ڈالنے کی صلاحیت ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اگر جُھوٹ بولیں گے، دھوکہ دیں گے، یا اگر وہ اس نازک جنگ بندی کو بھی ناکام بنانے کی کوشش کریں گے جسے ہم نے قائم کیا ہے، تو پھر یہ ان کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔‘
جے ڈی وینس نے منگل کو پڈاپسٹ کا دورہ شروع کیا تاکہ ہنگری کے قوم پرست وزیرِاعظم وکٹر اوربان کی حمایت کر سکیں، جنہیں اتوار کے روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اپنی 16 سال سے قائم حکمرانی کو غیرمعمولی چیلنج کا سامنا ہے۔
