متحدہ عرب امارات اور کویت پر جمعرات کو کوئی ایرانی حملہ نہیں ہوا: حکام کی تصدیق
جمعرات 9 اپریل 2026 19:36
بحرین، قطر، یو اے ای، کویت اور سعودی عرب کو اس تنازع کے دوران ایران نے نشانہ بنایا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور کویت نے کہا ہے کہ جمعرات کو انہیں ایران کے کسی ڈرون یا میزائل حملے کا نشانہ نہیں بنایا گیا جو کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نازک جنگ بندی کا دوسرا دن ہے۔
عرب نیوز کے مطابق خلیجی عرب ممالک کو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد ایران کی جانب سے حملوں کی لہروں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا تھا لیکن بدھ تک خلیجی ریاستوں کے خلاف حملے جاری رہے۔ تاہم جمعرات کو صورتحال کافی پرسکون نظر آئی۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا کہ ملک کی فضائی حدود ’گزشتہ گھنٹوں کے دوران‘ کسی بھی فضائی خطرے سے محفوظ رہی ہے۔
وزارت دفاع نے کہا کہ ’9 اپریل 2026 کو متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے کسی بھی بیلسٹک میزائل، کروز میزائل، یا یو اے وی (ڈرون) کا سراغ نہیں لگایا۔‘
اسی طرح کویت کی وزارت دفاع نے کہا ’فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اپنے مقررہ آپریشنل زونز میں کسی بھی فوجی نقل و حرکت یا پیش رفت کی اطلاع نہیں دی ہے۔‘
ان دونوں ممالک کو بحرین، قطر اور سعودی عرب کے ساتھ اس تنازع کے دوران ایران نے نشانہ بنایا تھا۔
جنگ کے دوران توانائی کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور دیگر سویلین مقامات پر حملے کیے گئے۔ خلیج کے پار فائر کیے گئے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی اکثریت کو فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا تھا۔
جنگ بندی کو ایک مستقل معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات رواں ہفتے کے آخر میں پاکستان میں ہونے والے ہیں۔
خلیجی ممالک نے جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ خطے سے توانائی اور دیگر اہم برآمدات بلا تعطل دوبارہ شروع ہو سکیں۔
