Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’حج نہ قربانی‘، غزہ کے رہائشی کس حال میں عیدالاضحیٰ منائیں گے؟

جنگ کے باعث بے گھر ہونے والی فلسطینیوں کی بڑی تعداد اب بھی خیمہ بستیوں میں رہ رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
غزہ کے جنوبی علاقے میں لگے ایک خیمے میں موجود نجیبہ ابو لہیہ نہ صرف اپنے شوہر کے بچھڑنے پر غمزدہ ہیں بلکہ اس بات پر بھی افسوس کر رہی ہیں کہ وہ دونوں اکٹھے حج پر نہیں جا سکے۔
ان کے شوہر پچھلے اس وقت انتقال کر گئے تھے جب جنگ کی وجہ سے بارڈر بند تھے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی حماس اور اسرائیل کے درمیان لڑائی سے قبل غزہ سے کم از کم تین ہزار عازمین حج کے لیے جایا کرتے تھے۔
 اکتوبر میں جنگ بندی پر دستخط ہونے سے بڑے پیمانے پر لڑائی رکی تو فلسطینیوں کو امید پیدا ہوئی کہ وہ اب سفر کر سکیں گے تاہم نقل و حرکت پر سخت پابندیوں نے اس امید پر پانی پھیر دیا۔
خان یونس کے علاقے میں بنی ایک خیمہ بستی میں رہنے والی 64 سالہ نجیبہ ابو لہیہ کہتی ہیں کہ ’میں نے شوہر نے ایک ساتھ حج کے لیے رجسٹریشن کروائی تھی اور ہمارے نام منظور بھی ہو گئے تھے مگر پھر جنگ شروع ہو گئی اور وہی راستے کی رکاوٹ بن گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یہ خدشہ ہے کہ کہیں حج کی آرزو دل میں لیے ہی نہ دنیا سے چلی جاؤں، لیکن امید ہے کہ ایک روز پابندیوں اور محاصرے کے باوجود ہم حج ادا کریں گے۔‘
امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے تحت اسرائیل نے مصر کے ساتھ لگنے والے رفح بارڈر کو جزوی طور پر کھولنے کی اجازت دی تھی جو کہ غزہ کا بیرونی دنیا کے ساتھ مرکزی رابطے کا ذریعہ ہے۔
تاہم اس کے بعد ہر ہفتے صرف چند سو افراد کو گزرنے کی اجازت دی گئی جن میں زیادہ بیمار افراد اور ان کے ساتھ جانے والے محدود افراد شامل تھے۔
نجیبہ ابو لہیہ کا کہنا ہے کہ ’گزرگاہ کیوں بند ہے، زائرین کے ساتھ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے وہ صرف حج کا فرض ادا کرنا چاہتے ہیں اور کچھ نہیں۔‘
انہوں نے اپنے فون پر مکہ میں موجود حاجیوں کی ویڈیوز دیکھتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں بھی ان مقدس دنوں میں وہاں موجود ہونا چاہیے تھا۔‘
اسرائیل کی ملٹری ایجنسی سی او جی اے ٹی جو غزہ کے معاملات کی نگرانی کر رہی ہے، کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت رفح بارڈر کے راستے صرف انسانی ہمدردی کے تحت افراد کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ وہاں سے گزرنے والوں کی فہرستیں مصری حکام تیار کرتے ہیں اور اسرائیلی ادارے اس کی منظوری دیتے ہیں۔

غزہ حکومت کے مطابق ’اسرائیلی کارروائیوں میں منظم طور پر مویشیوں کے شعبے کو تباہ کیا گیا‘ (فوٹو: روئٹرز)

حماس کے زیرانتظام غزہ حکومت کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ فروری کے بعد سے اب تک صرف پانچ ہزار تین سو چار افراد ہی غزہ کے اندر اور باہر کا سفر کر چکے ہیں جو کہ متوقع تعداد کی ایک تہائی سے بھی کم ہے۔
اسی طرح غزہ کی وزارت زراعت کا کہنا ہے کہ اس بار 27 مئی کو منائی جانے والی عیدالاضحیٰ کے موقع پر لوگ قربانی نہیں کر سکیں گے۔
بیان کے مطابق ’اسرائیلی فوج کی جانب سے اکتوبر 2023 سے جاری کارروائیاں ’منظم طور پر مویشیوں کے شعبے کی تباہی‘ کا باعث بنی ہیں اور فارمز، باڑے، ویٹرنری مراکز اور چارے کے گودام بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔‘
جنگ سے پہلے غزہ عید کے دنوں میں سالانہ 10 ہزار سے 20 ہزار تک بچھڑے اور 30 ہزار سے 40 ہزار تک بھیڑیں برآمد کرتا تھا۔
دوسری جانب سی او جی اے ٹی کا کہنا ہے کہ غزہ میں گوشت، چکن، انڈے اور دودھ کی فراہمی سہولت پوری کی جا رہی ہے اور پچھلے مہینے قریباً آٹھ ہزار ٹن سامان غزہ پہنچایا گیا مگر اس میں زندہ مویشی شامل نہیں تھے۔

 

شیئر: