سلہٹ میں کرکٹ کا جنازہ کیسے نکلا؟ اجمل جامی کا کالم
سلہٹ میں کرکٹ کا جنازہ کیسے نکلا؟ اجمل جامی کا کالم
جمعرات 21 مئی 2026 7:54
اجمل جامی -صحافی و تجزیہ نگار
بنگلہ دیش کے شمال مشرقی شہر سلہٹ میں جہاں ایک طرف حضرت شاہ جلال کے مزار کا جلا ل ہے تو وہیں تین کلومیٹر کے فاصلے پر سلہٹ انٹرنیشنل کرکٹ سٹیدیم میں بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی گرین شرٹس کے خلاف جلا ل میں تھی۔
ایک جانب سلہٹ کے چائے کے باغات ہیں اور کہیں ڈھابے پر روایتی چائے کی خوشبو اٹھ رہی تھی تو دوسری جانب سٹیڈیم میں ٹیم پاکستان کی کرکٹ کا جنازہ اٹھ رہا تھا۔
بنگلہ دیش نے بدھ کوکھیل کے آخری روز پاکستان کو 78 رنز سے شکست دے کر دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کلین سویپ کیا۔ یعنی پاکستان کے خلاف مسلسل چوتھی کامیابی۔ دو برس پہلے پاکستان میں کھیلی گئی سیریز میں بھی بنگلہ دیش نے دو صفر سے کامیابی حاصل کی تھی۔
اس بدترین اور تاریخی شکست کے بعد پاکستان کی ٹیم آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر چلی گئی ہے جبکہ بنگلہ دیش کی ٹیم اب ساتویں نمبر پر ہے۔ کرکٹ کا یہ جنازہ اچانک نہیں نکلا، بڑی محنت کی گئی ہے، چمتکار کیے گئے ہیں، رنگ برنگی تبدیلیاں مسلسل جاری رکھی گئیں، ٹیلنٹ روٹھ گیا یہ دکھائی نہ دیا؟ یہ وہ سوال ہے جس پر ماہرین دو آرا کا شکار ہیں۔ البتہ مینجمنٹ کپتانی اور سلیکشن جیسے شعبوں کی بدترین کاکردگی پر ہر کرکٹ شائق اور مبصر متفق ہے کہ یہ ناہل اور نکمے پن کا شکار شعبے ہیں۔ پسند نا پسند اور رشتے داریوں کے نام پر ٹیم پاکستان کا بیڑہ غرق کیسے ہوا؟ یہ اب کوئی ڈھکا چھپا مدعا نہیں رہا۔
سنہ 2024 کے آغاز سے اب تک پاکستان نے 14 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں، صرف تین میچز جیت سکے۔ 11 میں شکست ہوئی جس میں چار تو بنگلہ دیشی فتوحات ہیں۔ اندازہ کیجیے کہ ان 14 میں سے آٹھ میچز میں ہماری بولنگ اپوزیشن کو ایک میچ میں دو بار آؤٹ کرنے میں ناکام رہی۔ وہ ٹیم جو کبھی جانی ہی اپنی بولنگ کے لیے جاتی تھی آج کمزور ترین ٹیموں کو دو اننگز میں آوٹ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ وہ ٹیم جس کی بیٹنگ کبھی پہلی اننگز میں پونے دو سو یا دو سو بھی بناتی تھی تو بولنگ چوتھی اننگز میں میچ جتوا دیتی تھی آج بنگلہ دیشی بلے بازوں کو آؤٹ کرنے میں ناکام رہی ہے۔
سنہ 2022 سے اب تک ٹیم پاکستان کی فاسٹ بولنگ تاریخ کے بدترین زوال کا شکار ہے، ٹیسٹ میچز میں قومی ٹیم کے بظاہر تیز رفتار بولرز کی وکٹ لینے کی اوسط 37 سے زائد ہے۔ 12 ٹیموں میں سے ہم 11ویں نمبر پر ہیں، آخری نمبر آئرلینڈ کا ہے۔ یعنی یہ وقت بھی آنا تھا کہ ان چار برسوں میں افغانستان، بنگلہ دیش حتیٰ کہ زمبابوے کی فاسٹ بولنگ ٹیسٹ میچز میں پاکستان سے بہتر پرفارم کرتی آئی۔ کہاں گئی پیس بیٹری؟ کہاں گیا ٹیلنٹ؟ 140 یا 145 کیرفتار سےبولنگ کروانے والا بولر تک ٹیم میں نہیں۔ یہ وقت بھی آنا تھا کہ بنگلہ دیش کا بولر ناہید رانا 145 سے زائد کی رفتار سے گیند بازی کرے اور قومی ٹیم کی اوسط بولنگ سپیڈ 140بھی نہ ہو؟ کیا یہ ڈوب مرنے کا مقام نہیں؟
کم از کم 45 ٹیسٹ میچز کھیل کر بدترین بیٹنگ اوسط کا اعزاز کا بھی ہمارے کپتان شان مسعود کے پاس ہے، لگ بھگ 30 کی اوسط سے 45 ٹیسٹ میچ کھیل بیٹھے ہیں۔ یہ کاہے کا معیار ہے ؟ کیا ایسا بلے باز مسلسل ٹیسٹ کپتانی کا اہل ہے؟ کون ہے ون ڈاؤن پر دیوار بننے والا؟ مڈل آرڈر ہے کہ کبھی طے ہی نہ ہوسکا کہ نمبر چار یا پانچ پر کس کی جگہ ہے۔
سعود شکیل اچھی خاصی اٹھان کےساتھ ٹیسٹ میں آیا، پھر کیا ہوا؟ درجن سے زائد اننگز میں لڑکا فلاپ ہو گیا۔ بھلا ہو اذان اویس اور عبداللہ فضل کا کہ ڈیبیو میں ایک دو اچھی اننگز کھیل کر لاج رکھ لی۔ رہ گئی بات عظیم وکٹ کیپر محمد رضوان کی تو ان کی آخری اننگز اپنی جگہ لیکن ان کی اس میچ میں اصل وجہ شہرت لٹن داس کے ساتھ ان کا مکالمہ بن گئی۔
محمد رضوان نے میچ کے دوران ہی سکرین کے سامنے کھڑے ایک گراؤنڈ سٹاف کے رکن کو ہٹ جانے کا اشارہ کیا۔جس پر لٹن داس نے اردو میں رضوان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کیا کر رہے ہو؟‘ جس پر رضوان نے کہا کہ ’وہ دیکھو، وہ دیکھو، وہ سامنے کھڑا ہے۔‘ اس کے جواب میں لٹن داس نے کہا کہ ’ادھر کیا دیکھ رہے ہو؟ یہاں بیٹنگ کرو۔‘ اس پر محمد رضوان غصے میں آگئے اور انھوں نے لٹن داس کو کہا کہ ’یہ تمہارا کام ہے، میرا کام ہے یا امپائر کا؟' جس کے جواب میں لٹن داس نے کہا کہ 'ففٹی ہو گئی ہے بس اب ایکٹنگ شروع ہو جائے گی۔‘
یعنی موصوف پرفارمنس کی بجائے اب کریمپ، فزیو اور اوور ایکٹنگ کا ٹیگ اپنے گلے پر سجانے میں کامیاب ہو گئے۔ کیا دور تھا کہ ٹیم پاکستان کے بولرز کی باڈی لینگوئج جارح مزاج ہوا کرتی تھی، کیوں بھلا؟ کیونکہ پرفارمنس تھی، بولر لیتھل تھے، تیز تھے، بڑے بڑے بلے باز کانپتے تھے، لہذا انہیں جارحیت جچتی تھی۔ بلے باز بھی ٹیم کی مجموعی قوت کی وجہ سے بولرز سے الجھ پڑتے تھے، اعجاز تھے، انضمام تھے، سعید انور تھے، اور تو اور عمران نذیر جیسے کم عمر بڑے بڑے بولرز کو بلے کے رخ سے اشارے کیا کرتے تھے۔ کچھ پلے تھا تو جارحیت کے ساتھ مخالفین کے اعصاب پر سوار ہوتے تھے۔
اور اب؟ اب رضوان کی اوور ایکنٹگ باقی رہ گئی ہے یا تھکے ہارے چہروں کے ساتھ فیلڈنگ اور بولنگ کرتے نیم مردہ فاسٹ بولر۔