Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایران ایک دن میں 15 سے زیادہ جہازوں کو آبنائے ہُرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا‘

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی طاس نے جمعرات کو ایک نامعلوم سینیئر ایرانی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ایران ایک دن میں 15 سے زیادہ جہازوں کو آبنائے ہُرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران پر تباہ کُن حملے شروع کرنے کی دھمکیوں کی ڈیڈلائن سے قریبا دو گھنٹے قبل جنگ بندی پر مشروط آمادگی ظاہر کی تھی۔
پاکستان کی درخواست پر ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ ایران آبنائے ہُرمز کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھول دے گا۔
آبنائے ہُرمز دنیا میں توانائی کے شعبے کے لیے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایران اور عمان کے درمیان صرف 34 کلومیٹر (21 میل) پانی کی چوڑی پٹی ہے، جو خلیج عرب کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب (بحرِہند) ملاتی ہے۔
امن کے زمانے میں اس بحری راستے سے روزانہ قریباً دو کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے جو عالمی کھپت کا قریباً 20 فیصد بنتا ہے۔
اس کے علاوہ خاص طور پر قطر سے بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بھی اس آبنائے کے ذریعے ہی ایشیائی منڈیوں کو بھیجی جاتی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ 28 فروری کو اس وقت بھڑک اُٹھی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بمباری شروع کی جس کے جواب میں تہران نے خطے بھر میں حملے کیے اور آبنائے ہُرمز تک بحری جہازوں کی رسائی محدود کر دی۔
اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ براہِ راست تیل کی قیمتوں اور عالمی سپلائی کے استحکام کو متاثر کرتی ہے۔
چنانچہ، ایران کی جانب سے آبنائے ہُرمز کی بندش کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔پانچ ہفتوں سے زائد گزر جانے کے باوجود سینکڑوں جہاز ہزاروں ملاحوں سمیت اب بھی خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔

شیئر: