Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات سے قبل شہر میں سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات

پاکستان کے دارالحکومت میں ایران اور امریکہ کے درمیان مستقل جنگ بندی کا معاہدہ کرانے کے لیے مذاکرات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں جس کے لیے دونوں ممالک کے اعلٰی سطح کے وفود کی اسلام آباد آمد متوقع ہے۔
پاکستان نے اس تنازع میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ اب ان دو روایتی حریفوں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی ’عارضی جنگ بندی‘ کو ایک ’مستقل امن معاہدے‘ میں تبدیل کرنے کے لیے میزبانی کا فرض بھی پاکستان نبھا رہا ہے۔
اعلٰی سطح کے وفود کی آمد متوقع
ان اہم ترین مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جبکہ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں وفد پاکستان پہنچے گا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق امریکی سکیورٹی وفد اور معاون عملہ پہلے ہی اسلام آباد پہنچ کر پاکستانی اداروں کے ساتھ انتظامات کو حتمی شکل دے چکا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق باقاعدہ مذاکرات کا آغاز جمعے کو متوقع ہے جو سنیچر تک جاری رہ سکتے ہیں۔
پاکستان کی ثالثی اور قیادت کی ملاقات
مذاکرات سے قبل جمعرات کو وزیراعظم ہاؤس میں ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی حالیہ ثالثی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’قیادت نے اب تک کی کشیدگی میں کمی اور فریقین کی جانب سے دکھائے گئے تحمل پر اطمینان کا اظہار کیا۔‘

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی حالیہ ثالثی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا (فوٹو: پی ایم او)

وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان ایک پرامن حل تک پہنچنے کے لیے فریقین کو ہر ممکن سہولت اور تعاون فراہم کرتا رہے گا۔
اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات
ان حساس مذاکرات کے پیشِ نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات دیکھنے میں آرہے ہیں۔ پولیس، ایف سی اور فوج کے پانچ ہزار سے زائد اہلکار شہر کے اہم مقامات پر تعینات ہیں جبکہ وفاقی دارالحکومت میں جمعرات اور جمعے کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
شہر کا ریڈزون اس وقت مکمل طور پر سیل ہے جہاں غیر متعلقہ افراد اور نجی گاڑیوں کا داخلہ بند کر کے صرف سرکاری گاڑیوں کو نقل و حرکت کی اجازت دی گئی ہے۔

ان حساس مذاکرات کے پیشِ نظر اسلام آباد سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات دیکھنے میں آرہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اسلام آباد ٹریفک پولیس نے ایک جامع ڈائیورژن پلان کے ذریعے ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کر دیا ہے اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
ان مذاکرات کا بنیادی مقصد حالیہ عارضی جنگ بندی کو ایک پائیدار اور مستقل معاہدے کی شکل دینا ہے۔ مذاکرات میں فریقین اپنے اپنے نکات پیش کریں گے تاکہ خطے میں جاری اس جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے جس نے عالمی توانائی کے نظام اور امن کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان پہلے ہی ان مذاکرات میں ایران کی شرکت کی تصدیق کر چکے ہیں۔
اسی دوران جمعرات کی شب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا ایک اہم بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے لبنان کے ساتھ براہِ راست امن مذاکرات شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
 بنیامین نیتن یاہو کا یہ بیان اسرائیل کی لبنان پر بدترین بمباری کے بعد سامنے آیا ہے جس میں لبنان میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے۔

 

شیئر: