پاکستان کے دارالحکومت میں ایران اور امریکہ کے درمیان مستقل جنگ بندی کا معاہدہ کرانے کے لیے مذاکرات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں جس کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود کی اسلام آباد آمد متوقع ہے۔
پاکستان نے اس تنازع میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا ہے اور اب ان دو روایتی حریفوں کے درمیان ہونے والی ’عارضی جنگ بندی‘ کو ایک ’مستقل امن معاہدے‘ میں تبدیل کرنے کے لیے میزبانی کا فرض نبھا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
اعلیٰ سطح کے وفود اور سفارتی اقدامات
ان اہم ترین مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جبکہ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں وفد پاکستان پہنچے گا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق امریکی سکیورٹی وفد اور معاون عملہ پہلے ہی اسلام آباد پہنچ کر پاکستانی اداروں کے ساتھ انتظامات کو حتمی شکل دے چکا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق باقاعدہ مذاکرات کا آغاز جمعے کو متوقع ہے جو سنیچر تک جاری رہ سکتے ہیں۔ اس ضمن میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان پہلے ہی ایران کی شرکت کی تصدیق کر چکے ہیں۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کی صبح ایک ’ایکس‘ پوسٹ میں کہا کہ پاکستان ’اسلام آباد مذاکرات 2026‘ کے سلسلے میں آنے والے تمام مندوبین بشمول صحافیوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ انہوں نے تمام ایئر لائنز سے درخواست کی ہے کہ وہ ایسے تمام افراد کو ویزے کے بغیر جہاز پر سوار ہونے کی اجازت دیں، جنہیں پاکستان پہنچنے پر ’ویزا آن ارائیول‘ جاری کیا جائے گا۔
پاکستانی قیادت کی ملاقات اور عزم
مذاکرات سے قبل جمعرات کو وزیراعظم ہاؤس میں ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی حالیہ ثالثی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری کردہ بیان کے مطابق قیادت نے اب تک کی کشیدگی میں کمی اور فریقین کی جانب سے دکھائے گئے تحمل پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان ایک پرامن حل تک پہنچنے کے لیے فریقین کو ہر ممکن سہولت اور تعاون فراہم کرتا رہے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد ان اہم مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا انتخاب پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔
سکیورٹی اور انتظامی اقدامات
ان حساس مذاکرات کے پیشِ نظر اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس، ایف سی اور فوج کے پانچ ہزار سے زائد اہلکار شہر کے اہم مقامات پر تعینات ہیں جبکہ وفاقی دارالحکومت میں جمعرات اور جمعے کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
شہر کا ریڈزون اس وقت مکمل طور پر سیل ہے جہاں غیر متعلقہ افراد اور نجی گاڑیوں کا داخلہ بند کر کے صرف سرکاری گاڑیوں کو نقل و حرکت کی اجازت دی گئی ہے۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس نے ایک جامع ڈائیورژن پلان کے ذریعے ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کر دیا ہے اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
مذاکرات کا ایجنڈا اور علاقائی صورتحال
ان مذاکرات کا بنیادی مقصد حالیہ عارضی جنگ بندی کو ایک پائیدار اور مستقل معاہدے کی شکل دینا ہے تاکہ خطے میں جاری اس جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے جس نے عالمی توانائی کے نظام اور امن کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔
تاہم یہ سفارتی عمل ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب جمعرات کی شب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا ایک اہم بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے لبنان کے ساتھ براہِ راست امن مذاکرات شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
نیتن یاہو کا یہ بیان اسرائیل کی لبنان پر اس بدترین بمباری کے بعد سامنے آیا ہے جس میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔












