Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ اور ایران کا جنگ ختم کرنے کے لیے ’بریک تھرو‘ کے قریب پہنچنے کا اشارہ، ٹرمپ ڈرافٹ کا جائزہ لیں گے

پاکستان کے بااثر آرمی چیف تہران میں ایرانی حکام سے مذاکرات کے بعد واپس روانہ ہو گئے ہیں۔ (فوٹو: آئی ایس پی آر)
امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ دونوں ممالک مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے کے مسودے (ڈرافٹ ڈیل) تک پہنچنے کے قریب ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان ابھی بھی کچھ اختلافات موجود ہیں، تاہم جوہری پروگرام سے متعلق تنازع ابتدائی مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد مثبت پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بیان اس وقت دیا جب پاکستان کے آرمی چیف، جو امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، تہران کا دو روزہ مذاکرات کے بعد واپس روانہ ہوئے۔
مارکو روبیو نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’امکان ہے کہ آج، کل یا آنے والے چند دنوں میں ہمارے پاس کچھ کہنے کو ہو۔ میں امید کرتا ہوں کہ جلد اچھی خبر دے سکوں گا۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مجوزہ نئے ڈرافٹ معاہدے پر اپنے مشیروں سے مشاورت کریں گے اور ممکن ہے اتوار تک یہ فیصلہ کر لیں کہ جنگ دوبارہ شروع کرنی ہے یا نہیں۔
یہ بات امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے صدر ٹرمپ کے انٹرویو کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔
ٹرمپ کے بقول ’یا تو ہم ایک اچھا معاہدہ کر لیں گے، یا پھر میں انہیں جہنم واصل کروں گا۔‘

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا ہے کہ ڈرافٹ معاہدہ کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔
انہوں نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ ’ہمارا مقصد پہلے ایک مفاہمتی یادداشت یا فریم ورک معاہدہ تیار کرنا تھا، جو 14 شقوں پر مشتمل ہے۔‘
انہوں نے مذاکرات میں مفاہمت کے قریب پہنچنے کا ذکر ضرور کیا، تاہم کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام اہم معاملات پر فوری اتفاق ہو جائے گا۔
’معقول مدت یعنی 30 سے 60 دن کے اندر ان نکات کی تفصیلات پر بات چیت کی جائے گی اور بالآخر ایک حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔ اس وقت ہم مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی شکل دینے کے عمل میں ہیں۔‘
پاکستانی فوج نے بھی ہفتے کے روز کہا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران دورہ ثالثی کی کوششوں میں ’نمایاں طور پر معاون‘ ثابت ہوا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ’مختصر مگر انتہائی مفید‘ دورہ مکمل کیا جس کے دورن وہ یران کے صدر مسعود پزشکیان، سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔
فوج کے بیان میں کہا گیا کہ ملاقاتوں کا مقصد خطے میں امن و استحکام کے لیے مشاورتی عمل کو آگے بڑھانا تھا، اور گزشتہ 24 گھنٹوں کی بات چیت میں ’حوصلہ افزا پیش رفت‘ ہوئی ہے۔
قبل ازیں ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ جنگ شروع کی تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے دوران ایرانی افواج اپنی صلاحیتیں دوبارہ منظم کر چکی ہیں اور کسی بھی ’حماقت‘ کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔

شیئر: