’امریکی فوج ایران کے آس پاس رہے گی‘، ڈیل پر عمل نہ ہونے پر صدر ٹرمپ کی دھمکی
بدھ کو لبنان پر اسرائیل کے حملے میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کے جنگی بحری و ہوائی جہاز ایران کے آس پاس موجود رہیں گے اور دھمکی دی ہے کہ اگر ایران معاہدے کی مکمل طور پر تعمیل نہیں کرتا تو دوبارہ ’کارروائی‘ شروع کر دی جائے گی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے بدھ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’امریکہ کے تمام بحری و ہوائی جہاز، فوجی حکام بمع اضافی ہتھیاروں اور گولہ بارود کے تب تک ایران کے اردگرد موجود رہیں گے جب تک معاہدے پر مکمل طور پر عمل نہیں ہو جاتا۔‘
ان کے مطابق ’اگر کسی وجہ سے ایسا نہیں ہوتا، جس کا زیادہ امکان نہیں ہے تو پھر کارروائی شروع ہو گی اور اس قدر بڑی اور شدید ہو گی کہ کسی نے اس سے پہلے دیکھی نہیں ہو گی۔‘
بدھ کو ایران نے اسرائیل کے لبنان پر حملوں جن میں سو سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں، کے بعد کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ایک مستقل امن معاہدہ کے لیے بات چیت کو آگے بڑھانا ’نامناسب‘ ہو گا۔
فریقین کا مؤقف ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر ایک دوسرے سے کافی دور دکھائی دیتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے یورینیم کی افزودگی بند کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے جبکہ ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کی شرائط کے تحت ایران کو یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کی اجازت ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’اس پر بہت عرصہ قبل اتفاق کیا گیا تھا اور تمام تر جعلی بیان باری کے باوجود کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے اور آبنائے ہرمز بھی کھلی اور محفوظ ہو گی۔‘
