Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مکہ روٹ حج آپریشن مکمل، 3 لاکھ 88 ہزار عازمین حج نے فائدہ اٹھایا

جامع داخلے کے طریقہ کار کو صرف چالیس سیکنڈ میں مکمل کیا جاتا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
 سعودی وزارت داخلہ نے اس سال حج سیزن کے لیے مکہ روٹ انیشیٹیو کے کامیاب اختتام کا اعلان کیا ہے۔
دس ملکوں کے 17 ائیرپورٹس پر کام کرنے والے اس لاجسٹک پروگرام نے ایک ہزار 227 مخصوص پروازوں کے ذریعے تین لاکھ 88 ہزار 694 عازمین حج کو پری کلیئرنس اور مملکت آمد میں سہولت فراہم کی۔
2017 میں شروع کیے جانے والے مکہ روٹ انیشیٹیو تمام دستیاب وسائل کا استعمال کرتا ہے، تاکہ عازمین کے لیے حج کے سفر کو ان کے اپنے ملکوں سے  آسان بنایا جا سکے۔
ایس پی اے کے مطابق روٹ ٹُو مکہ‘ انیشیٹیو، سعودی وژن 2030 سے ہم آہنگ ’پِلگِرم ایکسپیریئنس پروگرام‘ کے تحت وزارتِ داخلہ کی کوششوں کا کلیدی حصہ ہے۔
ایک مربوط نظام کے تحت کام کرتے ہوئے جس میں متعدد ادارے شامل ہیں یہ اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے تمام عازمین کے لیے ایک ہموار اور محفوظ حج کو یقینی بناتا ہے۔
 اس سال سینیگل اور برونائی دارالسلام تک وسعت دی گئی ہے۔ مراکش، انڈونیشیا، ملائیشیا، پاکستان، بنگلہ دیش، ترکیہ، کوٹ ڈی آئیوائز اور مالدیپ اس پروگرام میں پہلے ہی شامل ہیں۔

جدید انفرا سٹرکچر جس میں 38 سروس سٹیشنز، 60 موبائل یونٹس اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے 120 موبائل کاونٹرز شامل ہیں۔ 
سعودی حکام سے نے ہر عازمین کے لیے روانگی سے قبل جامع داخلے کے طریقہ کار کو صرف چالیس سیکنڈ میں مکمل کیا۔
پروگرام کے تحت عازمینِ حج کو سفری سہولتیں پہنچانے کے لیے الیکٹرونک ویزا جاری کیا جاتا ہے، صحت کی شرائط کی پڑتال آن لائن ہو جاتی ہے جبکہ پاسپورٹ اور بائیومیٹرک کی کارروائی روانگی کے مقام پر ہی مکمل کر لی جاتی ہے۔

خصوصی ٹیگنگ کا بندوبست بھی اسی ’روٹ ٹُو مکہ‘ انیشیٹیو کے تحت کیا جاتا ہے۔
جدہ اور مدینہ لینڈنگ کے بعد عازمین معمول کی امیگریشن اور جانچ اور سامان وصولی کے مراحل سے گزرے بغیر مخصوص ٹرانسپورٹ کے ذریعے اپنی رہائش تک پہنچتےہیں جبکہ حکام ان کا سامان برارہ راست ان کے کمروں تک پہنچا دیتے ہیں۔ 
وزارت داخلہ کی جانب سے نافذ کیے جانے والا یہ اقدام وزارت خارجہ، وزارت صحت وزارت حج و عمرہ اور وزارت اطلاعات سمیت دیگر اداروں کے تعاون سے کام کرتا ہے۔

 

شیئر: