عارضی جنگ بندی کے بعد امریکہ و ایران کے درمیان اسلام آباد میں باضابطہ مذاکرات شروع ہونے سے ایک روز قبل جمعے کو صورت حال میں تناؤ دکھائی دے رہا ہے کیونکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر ڈیل کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق واشنگٹن نے تہران پر آبنائے ہرمز سے متعلق وعدوں کی خلاف وزری لگایا ہے جبکہ اسرائیل کے لبنان پر حملوں ایران جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔
ایسی کوئی آثار سامنے نہیں آئے کہ ایران آبنائے ہرمز سے ان تمام پابندیاں ہٹا رہا ہے، جن کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی سے متعلق اشیا کی تجارت میں بدترین رکاوٹ پیدا ہوئی۔
مزید پڑھیں
دوسری جانب ایران نے اسرائیل کی جانب سے لبنان پر تازہ حملوں کو ایک رکاوٹ کے طور پر بیان کیا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو رات گئے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کے حوالے سے ’بہت برا کام‘ کر رہا ہے اور یہ اس معاہدے کے مطابق نہیں، جو ہم نے کیا تھا۔
اسی طرح ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس کے لیے امریکہ کی جانب سے کیا اقدامات ہو سکتے ہیں۔
منگل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد ابتدائی 24 گھنٹوں صرف ایک آئل بردار اور پانچ دوسرے مال بردار آبنائے ہرمز سے گزرے جبکہ جنگ سے عالمی سطح پر ہونے والی توانائی سے متعلق تجارت کا پانچ فیصد اسی راستے سے گزرتا تھا اور روزانہ 140 کے قریب جہازوں کی آمدورفت ہوتی تھی۔

جمعے کی صبح اسرائیلی فوج کی جانب سے بتایا گیا کہ ان 10 لانچرز کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں سے جمعرات کی شام کو اسرائیل کے شمالی حصے پر راکٹ داغے گئے تھے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کے اتحادی گروپ حزب اللہ نے اسرائیل پر ایک میزائل حملہ بھی کیا، جس پر خطرے سائرن بج اٹھے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس میزائل کو راستے میں نشانہ بنا کر گرا لیا گیا۔
دوسری جانب حزب اللہ نے کہا کہ اس نے حیفہ شہر میں اسرائیلی کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
علاوہ ازیں امریکہ اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگ بندی کے معاہدے میں لبنان شامل نہیں ہے، جس کو اسرائیل نے پچھلے مہینے ایران پر حملوں کے ساتھ ساتھ نشانہ بنائے رکھا جس کا مقصد وہاں سے حزب اللہ کو ختم کرنا ہے۔

تاہم ایران اور پاکستان جس نے ثالث کا کردار ادا کیا، کا کہنا ہے کہ لبنان واضح طور پر معاہدے کا حصہ ہے، اسی طرح ایران کی پارلیمان سپیکر محمد باقر قالیباف جو ممکنہ طور پر نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کے مقابل ایرانی وفد کی قیادت کریں گے، نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ لبنان اور خطے کے دوسرے اتحادی ایران کے اس ’محور‘ کا حصہ ہیں جن کو کسی بھی جنگ بندی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب ایران کے سپیرم لیڈر نے جمعرات کو ایک مذمتی بیان میں کہا کہ ایران اس جنگ کا بدلہ لے گا۔
’ہم یقینی طور پر مجرمانہ حملہ کرنے والوں کو بغیر سزا کے نہیں چھوڑیں گے اور ہر نقصان کی تلافی کا مطالبہ کریں گے۔‘
پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کی جنگ بندی کا معاہدہ اس ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے پہلے ہوا تھا جس کے بارے میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں پر امریکی حملے ’ایک پوری تہذیب‘ کی تباہی کا باعث بنیں گے۔












