شکارپور: پشاور سے اغوا ہونے والی 11 سالہ بچی خرم سعید پولیس آپریشن میں بازیاب
ایس ایس پی شکارپور کے مطابق بازیاب بچی کو ان کے ورثہ کے حوالے کیا جائے گا۔ (فوٹو: فیس بک)
سندھ پولیس نے سرحدی ضلع شکار پور میں خان پور کے کچے کے علاقے میں کامیاب آپریشن کرکے پشاور سے اغوا ہونے والی 11 سالہ بچی کو بازیاب کر لیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق آپریش کرکے بچی کو اغوا کاروں کے چنگل سے بحفاظت نکال لیا گیا۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن خفیہ اطلاع پر کیا گیا، جس میں مختلف ٹیموں نے حصہ لیا۔ پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اہل علاقہ نے کامیاب کارروائی پر شکارپور پولیس کو خراجِ تحسین پیش اور ویل ڈن شکارپور پولیس کے نعرے لگائے۔
ایس ایس پی شکارپور کے مطابق بازیاب بچی کو ان کے ورثہ کے حوالے کیا جائے گا۔
خیال رہے 28 مارچ 2026 کو پشاور کے دلازاک روڈ پر رہنے والی 11 سالہ حرم اُس وقت لاپتا ہوگئی جب اس کی والدہ اپنی بڑی بیٹی کے ہاں گئی ہوئی تھیں۔ واپس آنے پر گھر کا دروازہ باہر سے بند تھا جبکہ حرم گھر پر موجود نہیں تھی۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ بچی بریانی لینے گئی تھی، تاہم کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود وہ واپس نہ آئی۔
دو روز بعد خاندان کو ایک نامعلوم نمبر سے کال موصول ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ حرم کو اغوا کر لیا گیا ہے اور وہ سکھر میں موجود ہے۔ بعد ازاں مبینہ اغوا کاروں نے 30 لاکھ روپے تاوان طلب کیا۔ خاندان نے مالی مشکلات کے باعث 15 لاکھ روپے دینے کی پیشکش کی، جس پر اغوا کار رضامند ہوگئے۔ بچی کی والدہ کے مطابق انہوں نے زیورات بیچ کر اور رشتہ داروں سے قرض لے کر تقریباً 15 لاکھ روپے جمع کیے۔
خاتون اپنے شوہر اور بیٹے کے ہمراہ سکھر پہنچیں جہاں اغوا کاروں نے فون پر انہیں مختلف ہدایات دینا شروع کیں۔ پہلے انہیں ایک بائی پاس پر اترنے کا کہا گیا، پھر شوہر اور بیٹے سے الگ ہو کر ویگن کے ذریعے آگے جانے کی ہدایت دی گئی۔ بعد ازاں ایک موٹر سائیکل سوار شخص خاتون کو ایک ویران مقام پر واقع گھر لے گیا جہاں مبینہ طور پر رقم وصول کرنے کے بعد انہیں بند کر دیا گیا۔
کچھ دن بعد خاتون کو بتایا گیا کہ انہیں ان کی بیٹی کے پاس لے جایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً تین گھنٹے کے سفر کے بعد انہیں شکارپور کے کچے کے علاقے میں پہنچایا گیا، جہاں کانٹوں سے بنائی گئی عارضی جگہ پر ان کی بیٹی موجود تھی۔ بعد ازاں اغوا کاروں نے دوبارہ 15 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور خاتون کو واپس بھیج دیا تھا۔
