Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان روانہ، ایران کو تنبیہ امریکہ کے ساتھ ’کھیل نہ کھیلے‘

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعہ کے روز ایران کو خبردار کیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ ’کھیل نہ کھیلے‘۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایران سے مذاکرات کے لیے پاکستان روانگی سے پہلے میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کے لیے ’واضح ہدایات‘ دی ہیں، اور انہیں توقع ہے کہ بات چیت مثبت ہوگی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھیوں میں سے ایک، جو ایران کے ساتھ چھ ہفتوں سے جاری تنازع کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف رکھتے تھے، کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ اس مسئلے کا حل تلاش کریں اور امریکی صدر کی اس دھمکی پر عمل کی نوبت آنے کو روکیں جس میں انہوں نے ایران کی ’تہذیب‘ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی بات کی تھی۔
جے ڈی وینس، جو طویل عرصے سے بیرونِ ملک فوجی مداخلت کے ناقد رہے ہیں اور غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والی جنگوں میں فوج بھیجنے کے خلاف کھل کر بولتے رہے ہیں، جمعہ کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔ پاکستان جاتے ہوئے ایئر فورس ٹو میں سوار ہوتے وقت نائب صدر نے کہا کہ ’ہم مذاکرات کے منتظر ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ مثبت ہوں گے۔ تاہم، ہم دیکھیں گے۔‘
انہوں نے ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر ایرانی نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تو ہم یقیناً دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔‘
’اگر وہ ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کریں گے، تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ مذاکراتی ٹیم اتنی زیادہ لچکدار نہیں ہے۔‘
جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ نے ’ہمیں کافی واضح ہدایات دی ہیں‘ کہ مذاکرات کیسے ہونے چاہئیں، تاہم انہوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔ انہوں نے اپنے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں کے سوالات بھی نہیں لیے۔
وینس کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایک کمزور اور عارضی جنگ بندی ٹوٹنے کے قریب دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کے مطالبات اور امریکہ و اس کے اتحادی اسرائیل کے مطالبات کے درمیان فرق اتنا زیادہ ہے کہ اسے ختم کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ اور امریکہ میں، جہاں جے ڈی وینس دو سال بعد صدارتی امیدوار بن سکتے ہیں، جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
نائب صدر کے ہمراہ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی  سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی ہیں، جنہوں نے ایران کے ساتھ تین ادوار پر مشتمل بالواسطہ مذاکرات میں حصہ لیا تھا۔ ان مذاکرات کا مقصد تہران کے جوہری اور بیلسٹک ہتھیاروں کے پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں مسلح گروہوں کی حمایت سے متعلق امریکی خدشات کو دور کرنا تھا۔

منگل کی شام وائٹ ہاؤس اور ایران کی جانب سے عارضی جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد ہی، دونوں فریق جنگ بندی کی شرائط پر اختلاف کا شکار ہو گئے۔ (فوٹو: روئٹرز)

وائٹ ہاؤس نے مذاکرات کے طریقہ کار کے بارے میں بہت کم تفصیلات فراہم کی ہیں ، یہ واضح نہیں کہ بات چیت براہِ راست ہوگی یا بالواسطہ، اور نہ ہی اس ملاقات سے متعلق کوئی واضح توقعات بتائی گئی ہیں۔
تاہم، مذاکرات کے لیے جے ڈی وینس کی آمد امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے حکومتی رابطے کا ایک نادر موقع ہے۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے براہِ راست رابطہ اس وقت ہوا تھا جب صدر باراک اوباما نے ستمبر 2013 میں ایران کے نو منتخب صدر حسن روحانی کو فون کیا تھا تاکہ ایران کے جوہری پروگرام پر بات کی جا سکے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران مشترکہ حملے کیے جن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے اور ایران کے فوجی و جوہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ پانچ ہفتوں میں ان حملوں کے نتیجے میں 2000 سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔
اس کے جواب میں تہران نے آبنائے ہرمز کو عملاً بند کر دیا جہاں سے دنیا کے لگ بھگ پانچویں حصے کے تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، جس کے باعث توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور عالمی تجارت متاثر ہوئی۔
8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے مطابق مذاکرات 15 دن تک جاری رہ سکتے ہیں جبکہ جنگ بندی کے 22 اپریل کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
دونوں فریقوں کو پیش رفت حاصل کرنے کے لیے ایک مشکل مرحلے کا سامنا ہے۔
منگل کی شام وائٹ ہاؤس اور ایران کی جانب سے عارضی جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد ہی، دونوں فریق جنگ بندی کی شرائط پر اختلاف کا شکار ہو گئے۔
ایران نے اصرار کیا کہ لبنان میں اسرائیلی جنگ کا خاتمہ بھی اس جنگ بندی کا حصہ ہے۔ لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، اور وہاں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں۔
دوسری جانب، امریکہ نے مطالبہ کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے اپنے وعدے کو پورا کرے۔ اسلامی جمہوریہ نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملوں کے ردعمل میں اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کر دیا تھا۔
جمعرات کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران تیل بردار جہازوں کو گزرنے دینے میں ’بہت خراب کارکردگی دکھا رہا ہے، اور سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’یہ وہ معاہدہ نہیں ہے جو ہمارا ہوا تھا۔‘
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور وزیر خارجہ مارکو روبیو ’ہمیشہ سے ان مذاکرات میں باہمی تعاون کرتے رہے ہیں، اور کہا کہ ٹرمپ کو امید ہے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران ایک دیرپا معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
کیلی نے مزید کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے پاس امریکہ اور امریکی عوام کے مفاد میں بہترین معاہدے کرنے کا ثابت شدہ ریکارڈ موجود ہے، اور وہ صرف اسی معاہدے کو قبول کریں گے جو امریکہ کو ترجیح دے۔‘

شیئر: