Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مسجدِ اقصیٰ میں کئی ہفتوں بعد پہلی بار نمازِ جمعہ کی ادائیگی، ایک لاکھ سے زیادہ نمازیوں کی شرکت

مقبوضہ مشرقی یروشلم میں جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے ہزاروں نمازی جمع ہوئے، جہاں 40 دن کی پابندی کے بعد پہلی مرتبہ باجماعت نماز ادا کی گئی۔

مسجد کئی ہفتوں تک بند رہی اور نماز ادا نہیں کی گئی، حکام نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کو اس کی وجہ قرار دیا۔ مسجد کے دوبارہ کھلنے پر بڑی تعداد میں لوگ صبح سویرے ہی پہنچنا شروع ہو گئے اور احاطہ نمازیوں سے بھر گیا۔

فلسطینی میڈیا کے مطابق یروشلم کے محکمۂ اسلامی اوقاف نے کہا ہے کہ تقریباً ایک لاکھ افراد نے جمعہ کی نماز میں شرکت کی
پورے مقبوضہ یروشلم اور خاص طور پر قدیم شہر کے اطراف میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق اہم داخلی راستوں پر آہنی رکاوٹیں نصب کی گئیں، جن میں مسجد کے داخلی دروازے بھی شامل تھے۔

سکیورٹی اہلکار نوجوانوں کو روک کر شناختی دستاویزات کی جانچ کرتے اور بعض کو حراست میں لیتے رہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق کچھ ایسے نمازی، جنہیں پہلے مسجد میں داخلے سے روکا گیا تھا، انہیں قریبی علاقوں میں نماز ادا کرنے سے بھی منع کر دیا گیا، جن میں لائنز گیٹ کے قریب المجاہدین روڈ کا علاقہ بھی شامل ہے۔

اُردن کے خبر رساں ادارے نے یہ رپورٹ کیا ہے کہ اُردن میں جمعہ کی نماز کے بعد نکالی گئی ایک ریلی میں یروشلم کے مقدس مقامات کو برسرِاقتدار ہاشمی خاندان کی نگرانی میں دینے کی حمایت کی گئی۔

مظاہرین نے شہر کے تحفظ کی تاریخی اور مذہبی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ان اقدامات کی مخالفت کی جنہیں وہ فلسطینی شناخت اور مسجد اقصیٰ کی حیثیت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔

شرکا نے شاہ عبداللہ دوم کی حمایت کا بھی اعادہ کیا، جو بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ یروشلم کے اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کی سرپرستی مملکت کی اہم ترین ترجیح ہے۔

شیئر: