امریکی خلائی ادارے کا مشن آرٹیمس ٹو اپنے خلائی سفر اور چاند کا چکر لگانے کے بعد واپس آ گیا ہے اور اس میں شامل چار ارکان جمعے کو بحرالکاہل میں اترے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چار ارکان پر مشتمل اس کریو نے خلا میں 10 دن گزارے اور نصف صدی سے زیادہ عرصے کے بعد اس خلائی حصے میں انسان کا پہنچنا ممکن ہوا۔
مزید پڑھیں
خلابازوں کو لے جانے والا کیپسول امریکی وقت کے مطابق شام پانچ بجے کے قریب جنوبی کیلیفورینا میں سمندر کی پرسکون لہروں پر پیراشوٹوں کی مدد سے اترا۔
اس سفر کے دوران خلابازوں نے ان حصوں کا سفر بھی کیا جہاں آج تک انسان کبھی پہلے نہیں پہنچا تھا۔
رپورٹ کے مطابق آرٹیمس ٹو فلائٹ نے زمین کے دو مداروں میں مجموعی طور پر چھ لاکھ 94 ہزار تین سو 92 میل (11 لاکھ 17 ہزار پانچ سو 15 کلومیٹر) کا سفر کیا۔ یہ خلائی ادارے کی جانب سے آرٹیمس مشن کی پہلی پرواز تھی جس کا مقصد 2028 تک خلابازوں کو ایک بار پھر چاند کی سطح تک لے جانا ہے۔

ناسا کے مبصر روب نویاس کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ سورج غروب ہونے سے تقریباً دو گھنٹے قبل جب آسمان تھوڑا ابرآلود تھا، وہ تاریخ لمحہ آیا جب کیپسول نے سپلیش ڈاؤن کیا جس کو انہوں نے ’بُلز آئی سپلیش ڈاؤن‘ قرار دیا۔
مشن کمانڈر ریڈ وائزمین نے اترنے کے ساتھ ہی ریڈیو کے ذریعے پیغام دیا کہ ’ہم چاروں ارکان ٹھیک ہیں۔‘
کیپسول کے اترنے کے وقت ناسا اور امریکی بحریہ کی ٹیمیں تیار تھیں اور اس کے پانی کو چھونے اور کمانڈر کے پیغام کے ساتھ ہی وہ آپریشن شروع کر دیا جو تیرتے ہوئے کیپسول اور عملے کو محفوظ بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا اور یہ پوری کارروائی دو گھنٹے سے کم وقت میں مکمل ہوئی۔
واپسی کے بعد چاروں خلابازوں کا طبی معائنہ کیا گیا اور ڈاکٹروں کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ان کی صحت بہتر ہے۔

تاہم اس سے تھوڑی دیر قبل کنٹرول روم میں اس وقت تناؤ بڑھا جب کیپسول نے انتہائی درجہ حرارت سے گزرنا تھا اور طے شدہ پروگرام کے تحت اس کا رابطہ منقطع ہونا تھا اور ایسا ہی ہوا۔
اس دوران سب کی نظریں کیپسول کی ہیٹ شیلڈ پر لگی ہوئی تھیں کیونکہ اس کو زمین کی فضا میں داخل ہوتے وقت ہزاروں ڈگری کا درجہ حرارت برداشت کرنا تھا۔
تاہم اس وقت کنٹرول روم کے اندر چین کا سانس لیا گیا جب رابطہ دوبارہ بحال ہوا اور پیراشوٹس کو اترتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ اس سے قبل اس کی رفتار کو بہت کم کر دیا گیا تھا۔
جلد ہی بحریہ کی ٹیمیں کیپسول تک پہنچیں اور خلابازوں کو نکلنے میں مدد دی اور پھر ان کو ہیلی کاپٹروں کی طرف لے جایا گیا، یہیں پر ابتدائی طبی معائنہ بھی ہوا۔
اس موقع پر گلوور اور کوچ کو مسکراتے اور کیمروں کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلاتے ہوئے دیکھا گیا۔
خیال رہے یہ مشن یکم اپریل کو روانہ ہوا تھا جو 50 برس سے زیادہ عرصے کے بعد انسانوں کا پہلا قمری سفر تھا۔

یہ ناسا کے اس مںصوبے کا حصہ جس کے تحت دو سال کے اندر انسان کو چاند پر اتارا جائے گا۔
رپورٹس مطابق تین امریکیوں اور ایک کینیڈین خلابازوں پر مشتمل یہ عملہ ایک 32 منزلہ راکٹ کے ذریعے ناسا کے کینیڈی سپیس سینٹر سے روانہ ہوا تھا جہاں ہزاروں افراد موجود تھے۔
آرٹیمس ٹو فلوریڈا کے اسی مقام سے روانہ ہوا تھا جہاں سے ماضی میں اپالو کے خلا باز چاند کی طرف گئے تھے۔ چند پرانے خلا باز جو اب بھی زندہ ہیں، اس نئی نسل کے عظیم سفر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سراہ رہے تھے۔
اس مشن کے کمانڈر ریڈ وائز مین نے ’چاند پر چلو‘ کہہ کر اس مشن کی قیادت کی۔ پائلٹ وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن بھی ان کے ہمراہ تھے۔












