Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آرٹیمس ٹو مشن: خلابازوں کی کلائیوں پر ایک ہی خاص گھڑی، اس کی خاصیت اور قیمت کیا ہے؟

یہ گھڑی مون واچ سے مختلف ہے کیونکہ اینالاگ اور ڈیجیٹل دونوں نظام پر مشتمل ہے۔ (فوٹو: ناسا)
امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا تاریخی مشن آرٹیمس ٹو یکم اپریل کو کامیابی کے ساتھ لانچ ہوا، جو 50 سال سے زائد عرصے بعد چاند کے گرد انسانوں کا پہلا مشن ہے۔
اس مشن کے ساتھ جہاں خلائی تحقیق میں نئی پیش رفت ہوئی، وہیں گھڑیوں کی دنیا میں بھی ایک اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی۔
اس مشن کی نمایاں باتوں میں سے ایک یہ بھی رہی کہ خلا بازوں نے روایتی مکینیکل ’مون واچ‘ کے بجائے اومیگا سپیڈ ماسٹر ایکس-33 جنریشن ٹو گھڑی استعمال کی، جو اس مشن کی مرکزی اور عملی گھڑی کے طور پر سامنے آئی ہے۔
چاروں خلا باز ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن کو لانچنگ کی تیاریوں اور ایونٹ کے موقع پر اسی گھڑی کے ساتھ دیکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جدید خلائی مشنز کے لیے ایک اہم ٹول بن چکی ہے۔

تصویر: ناسا

یہ گھڑی روایتی مکینیکل مون واچ سے مختلف ہے کیونکہ یہ اینالاگ اور ڈیجیٹل دونوں نظام پر مشتمل ہے اور خاص طور پر جدید خلائی ماحول میں استعمال کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ اس میں ہلکی ٹائٹینیم باڈی، جدید ٹائمنگ فنکشنز اور مشن کے مطابق فیچرز شامل ہیں، جو اسے خلا میں استعمال کے لیے زیادہ موزوں بناتے ہیں۔
پریسیژن واچز ویب سائٹ کے مطابق آرٹیمس ٹو مشن نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ناسا کی گھڑیوں کی روایت اب صرف ماضی کی کلاسک ’مون واچ‘ تک محدود نہیں رہی بلکہ وقت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔
Artemis II watch — Speedmaster X-33 3291.50.00
ماہرین کے مطابق مشن گھڑیوں کے لحاظ سے تاریخ کے تین ادوار کو یکجا کرتا ہے۔(فوٹو: اومیگا ایس اے)

فراٹیلو ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ اومیگا سپیڈ ماسٹر ایکس-33 دراصل خلائی جہاز کے اندر استعمال کے لیے مخصوص ہے، جبکہ روایتی مکینیکل سپیڈ ماسٹر اب بھی خلاء میں جہاز سے باہر سرگرمیوں (ای وی اے) کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایکس-33 کا دوسرا جنریشن ماڈل 2001 میں متعارف کرایا گیا تھا اور عام صارفین کے لیے 2006 میں بند کر دیا گیا، تاہم اسے ناسا کے لیے مخصوص طور پر تیار کیا جاتا رہا ہے۔

ناسا

اس کے ساتھ ساتھ ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ بعض خلا بازوں کے پاس بریٹلنگ نیوی ٹائمر گھڑی بھی موجود تھی، تاہم اسے مرکزی مشن گھڑی نہیں بلکہ ذاتی انتخاب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بعض خلا باز اپنے ساتھ روایتی اسپیڈ ماسٹر ’مون واچ‘ بھی لے کر گئے، جو اس روایت کے تسلسل کی علامت ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مشن گھڑیوں کے حوالے سے ماضی، حال اور مستقبل کو یکجا کرتا ہے، جہاں کلاسک مون واچ، جدید ایکس-33 اور دیگر ذاتی گھڑیاں ایک ہی مشن میں نظر آئیں۔

تصویر: ناسا

قیمت کے حوالے سے کرونو 24 ویب سائٹ پر دستیاب ڈیٹا کے مطابق اومیگا سپیڈ ماسٹر ایکس-33 گھڑی کی قیمت عموماً تقریباً 2,000 سے 3,500 امریکی ڈالر کے درمیان دیکھی گئی ہے، جبکہ کچھ جدید یا خاص ماڈلز کی قیمت 7,000 ڈالر سے زائد تک بھی جا سکتی ہے۔

شیئر: