ایکس سے کمائی کرنے والوں کو بڑا جھٹکا، کمپنی کا ’کلک بیٹ‘ کرنے والوں کی ادائیگیوں میں بڑی کٹوتی کا اعلان
پیر 13 اپریل 2026 16:44
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
ایسے اکاؤنٹس جو ٹائم لائن کو فلڈ کرتے ہیں ان کی کمائی کو موجودہ سائیکل میں 60 فیصد تک کم کر دیا گیا ہے (فائل فوٹو: گیٹی)
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) نے کلک بیٹ اور تیز رفتار نیوز ایگریگیشن کرنے والے اکاؤنٹس کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ان کی ادائیگیوں میں نمایاں کمی کر دی ہے۔
’ٹیک کرنچ‘ کے مطابق کمپنی کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر کے مطابق ’ایسے اکاؤنٹس جو ٹائم لائن کو فلڈ(زیادہ پوسٹنگ) کرتے ہیں، ان کی کمائی کو موجودہ سائیکل میں 60 فیصد تک کم کر دیا گیا ہے، جبکہ اگلے مرحلے میں مزید 20 فیصد کمی کی جائے گی۔‘
نکیتا بیئر نے یہ بھی واضح کیا کہ ’وہ صارفین جو ہر پوسٹ میں ’بریکنگ‘ جیسے الفاظ استعمال کر کے کلک بیٹ کرتے ہیں، انہیں بھی ادائیگیوں میں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بڑی تعداد میں ری پوسٹس اور کلک بیٹ مواد نے اصل کریئیٹرز کی رسائی کو متاثر کیا اور نئے لکھنے والوں کی ترقی میں رکاوٹ ڈالی۔‘
یہ اقدام ایلون مسک کی ملکیتی کمپنی ’ایکس‘ کی جانب سے اس وقت سامنے آیا جب کئی اکاؤنٹس، خاص طور پر قدامت پسند نظریات رکھنے والے، نے دعویٰ کیا کہ انہیں بغیر کسی وضاحت کے ڈی مونیٹائز کر دیا گیا ہے۔
مشہور اکاؤنٹ ہولڈر ڈومینک مکگی (ڈوم لُوکر) نے اس فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ پلیٹ فارم پر سب سے زیادہ محنت کرنے والے کریئیٹرز میں سے ایک ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی آمدنی ختم کر دی گئی۔
ان کے اکاؤنٹ کے 1.6 ملین فالوورز ہیں اور وہ پہلے بھی مختلف تنازعات کا حصہ رہ چکے ہیں۔
دوسری جانب کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ وہ غلطی سے اس پالیسی کی زد میں آ گئے ہیں، حالانکہ وہ خود کو ایگریگیٹر نہیں سمجھتے۔
یہ تمام صورتحال اس وقت سامنے آئی جب معروف ڈیٹا اینالسٹ نیٹ سلور نے پلیٹ فارم کی کارکردگی اور ٹریفک میں کمی پر تنقید کی۔ تاہم کمپنی کی جانب سے ان کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ڈیٹا درست نہیں۔
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی کو محدود نہیں کرے گی، لیکن ایسے طریقوں کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کرے گی جو صارفین یا سسٹم کو گمراہ کریں۔
