سکھ بزنس مین روبن سنگھ جو پگڑی کے رنگ کے مطابق گاڑی بدلتے ہیں
صرف 17 برس کی عمر میں روبین سنگھ نے عملی زندگی کا آغاز کیا اور جلد ہی کاروباری دنیا میں اپنا مقام بنانا شروع کیا (فوٹو: انسٹاگرام)
کاروبار، لگژری اور فلاحی کاموں کی دنیا میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی کامیابی، طرزِ زندگی اور انسان دوستی کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں۔
انہی نمایاں شخصیات میں ایک نام روبن سنگھ کا بھی ہے جو انڈین نژاد سکھ ارب پتی کاروباری شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی پگڑی کے مذاق بننے کے بعد پگڑی کے رنگ کی ’رولز رائس‘ رکھنا شروع کر دی۔
ایک بلکل عام سی شروعات سے لے کر بین الاقوامی شہرت تک ان کا سفر نہ صرف کاروباری کامیابی کی داستان ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی مثال ہے کہ خواب، محنت اور مستقل مزاجی انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتی ہے۔
ابتدائی زندگی
’منیش میڈیا‘ کے مطابق روبن سنگھ برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں ایک کاروباری خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جہاں محنت، دیانت داری اور بلند عزائم کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔
ان کے خاندان کا تعلق کامیاب کاروباری گروپ سے تھا، جن میں معروف امپورٹنگ کمپنی ’سابکو‘ بھی شامل تھی۔
سکھ روایات اور برطانوی ماحول میں پروان چڑھنے والے روبن سنگھ نے اپنی ثقافتی شناخت اور جدید سوچ کو بہترین انداز میں یکجا کیا اور یہی امتزاج بعد میں ان کی کامیابی کی بنیاد بنا۔
کاروبار میں سفر
کم عمری ہی سے ان میں کاروباری سوچ نمایاں تھی۔ صرف 17 برس کی عمر میں انہوں نے عملی زندگی کا آغاز کر دیا اور جلد ہی کاروباری دنیا میں اپنا مقام بنانا شروع کر دیا۔
ان کا پہلا بڑا کاروباری منصوبہ ’مس اٹیٹیوڈ‘ کے نام سے فیشن ایکسیسریز سٹورز کی چین تھی، جس نے انہیں صرف 19 برس کی عمر میں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ ان کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت تھی کہ ان میں غیر معمولی کاروباری صلاحیت موجود ہے۔
تاہم روبن سنگھ کے خواب صرف ایک کاروبار تک محدود نہیں تھے۔ وہ مسلسل نئے مواقع تلاش کرنے اور حدود سے آگے بڑھنے پر یقین رکھتے تھے۔
سنہ 2000 میں انہوں نے ’آل ڈے پی اے‘ کے نام سے ایک کانٹیکٹ سینٹر کمپنی قائم کی، جس نے ان کی وژنری قیادت کو مزید نمایاں کیا۔ اگرچہ انہیں زندگی میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، جن میں سنہ 2007 کا ذاتی قرض تنازع اور دیوالیہ پن شامل تھا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے دوبارہ اپنی کمپنیوں کی قیادت سنبھالی اور انہیں ایک بار پھر کامیابی کی راہ پر گامزن کر دیا۔
کاروباری سلطنت کو مزید وسعت دینے کے لیے روبن سنگھ نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی۔ وہ اس وقت ’ایشَر کیپیٹل‘ نامی نجی سرمایہ کار کمپنی کے سی ای او ہیں، جس کی بنیاد انہوں نے سنہ 2014 میں رکھی تھی۔
اس کمپنی کے ذریعے وہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کے مشن پر کام کر رہے ہیں۔ ’ایشَر کیپیٹل‘ کی جانب سے کانٹیکٹ سینٹرز میں کی جانے والی سرمایہ کاری کے نتیجے میں تقریباً ایک ہزار 500 ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا، جس سے روبن سنگھ کی ایک دور اندیش اور کامیاب کاروباری رہنما کی حیثیت مزید مضبوط ہوئی۔
اگرچہ ان کی مجموعی دولت کے اعداد و شمار مختلف اندازوں پر مبنی ہیں، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے اپنی کامیاب سرمایہ کاریوں اور کاروباری منصوبوں کے ذریعے بے پناہ دولت کمائی ہے۔ متعدد کاروباروں، قیمتی جائیدادوں اور لگژری گاڑیوں کے باعث ان کی دولت کا تخمینہ کئی ملین ڈالرز تک لگایا جاتا ہے، اور وہ دنیا کے نمایاں کاروباری افراد میں شمار کیے جاتے ہیں۔
پگڑی کے ساتھ گاڑی کا رنگ ملانے کا چیلنج
روبن سنگھ کے ساتھ ایک ایسا واقعہ بھی ہوا جس کی وجہ سے وہ اپنی پگڑی کے رنگ کو اپنی رولز رائس گاڑیوں کے رنگ سے ملانے کی وجہ سے انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئے۔ مگر اس کے پیچھے صرف شاہانہ زندگی یا مہنگی گاڑیوں کی نمائش نہیں تھی بلکہ ایک ایسا واقعہ تھا جس میں عزتِ نفس، اپنی شناخت پر فخر اور خیراتی جذبہ سب شامل تھے۔
روبن سنگھ بتاتے ہیں کہ ایک انگریز شخص نے ان کی پگڑی کا مذاق اڑاتے ہوئے اسے ’بینڈیج‘ یعنی پٹی قرار دیا۔ بظاہر یہ ایک مذاق تھا، مگر روبن سنگھ کے لیے یہ ان کی شناخت اور مذہبی علامت کی توہین تھی، جس نے انہیں اندر سے تکلیف پہنچائی۔
تاہم روبن سنگھ نے غصے یا نفرت کے بجائے اس مذاق کا جواب ایک منفرد اور مثبت انداز میں دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اس شخص کو ایک دلچسپ چیلنج دے دیا۔ روبین سنگھ نے کہا کہ وہ پورے ایک ہفتے تک ہر روز اپنی پگڑی کا رنگ اپنی رولز رائس گاڑی کے رنگ سے میچ کریں گے، لیکن شرط یہ ہوگی کہ مذاق اڑانے والے افراد خیراتی اداروں کو عطیہ دیں گے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’میری پگڑی کے بارے میں ایک بظاہر مذاق کیا گیا تھا، لیکن اس نے مجھے تکلیف پہنچائی۔ اسی وجہ سے میں نے یہ چیلنج قبول کیا، بشرطیکہ مذاق اُڑانے والے لوگ خیرات کے لیے رقم ادا کریں۔‘
یہ چیلنج جلد ہی سوشل میڈیا پر مقبول ہو گیا۔ لوگ حیران تھے کہ ایک شخص کے پاس اتنی رولز رائس گاڑیاں کیسے ہو سکتی ہیں کہ وہ ہر روز مختلف رنگ کی گاڑی کے ساتھ اسی رنگ کی پگڑی باندھ سکے۔ روبن سنگھ نے پورے ہفتے کے دوران سات مختلف رنگوں کی پگڑیاں پہنیں اور ہر روز اسی رنگ کی رولز رائس کے ساتھ تصاویر بنوا کر شیئر کرتے رہے۔
کار کلیکشن
’رولز رائس‘ کے علاوہ ان کے پاس ’لیمبورگینی ہوراکان‘، ’بگاٹی ویرون‘، ’فراری ایف 12 برلینیٹا‘، ’پورشے 918 سپائیڈر‘ اور ’پگانی ہوایرا‘ جیسی مہنگی اور نایاب گاڑیاں بھی موجود ہیں، جو ان کے اعلیٰ ذوق اور لگژری طرزِ زندگی کی عکاسی کرتی ہیں۔
ان کی عالیشان رہائش گاہ بھی ان کی کامیابی اور شاندار طرزِ زندگی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ایک پوش علاقے میں واقع ان کی یہ عظیم الشان حویلی ان کے نفیس ذوق، کامیابی اور بلند معیارِ زندگی کی نمائندگی کرتی ہے۔
خاندانی پس منظر
روبن سنگھ کی کامیابی کے پیچھے ان کے خاندان کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے والدین نے انہیں دیانت داری، عاجزی اور خلوص جیسے اوصاف سکھائے، جو آج بھی ان کی شخصیت کا نمایاں حصہ ہیں۔ ان کے خاندان کی مسلسل حمایت اور رہنمائی نے ہر مشکل مرحلے میں انہیں حوصلہ دیا اور یہی خاندانی اقدار ان کی زندگی اور کاروبار میں واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔
ایک سکھ ارب پتی ہونے کے ناطے روبن سنگھ اپنی مذہبی اور ثقافتی اقدار کو ہمیشہ مقدم رکھتے ہیں۔ ان کی فلاحی سرگرمیاں، دوسروں کی مدد کا جذبہ اور معاشرے کو واپس لوٹانے کا نظریہ سکھ مذہب کے ’سیوا‘ یعنی بے لوث خدمت کے فلسفے کی بہترین مثال ہیں۔
