Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد اور پنجاب میں ایک بار پِھر سمارٹ لاک ڈاؤن، پچھلے سے کتنا مختلف ہے؟

شادی ہالز کو رات 10 بجے بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے (فوٹو: اے پی)
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور صوبہ پنجاب میں ایک بار پھر ’توانائی بچت مہم‘ کے تحت سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔
منگل کو ایکس پر ڈی سی اسلام آباد کی جانب سے کی گئی پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ بندشوں آج یکم جون سے لاگو ہوں گی، اس میں دکانوں کو رات آٹھ بجے بند کرنے کا کہا گیا ہے جبکہ ہوٹلوں اور ریستورانوں کو رات 10 بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ریستورانوں کے ضمن میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے سروسز پر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔
اعلامیے میں شادی ہالز اور دوسرے کاروباری اداروں کے حوالے بھی بتایا گیا کہ ان کا بھی رات 10 بجے بند کرنا ضروری ہو گا۔
نوٹیفکیشن میں کچھ مقامات کو پابندیوں سے مستثنیٰ بھی قرار دیا گیا ہے جن میں میڈیکل سٹورز، پیٹرول پمپس، سی این جی سٹیشنز، دودھ دہی کی دکانیں، جم، کھیلوں کی سرگرمیاں شامل ہیں۔
متن میں بھی کہا گیا ہے کہ مذکورہ سمارٹ ڈاؤن حکام کی جانب سے اگلی اطلاعات آنے تک برقرار رہے گا۔
پنجاب حکومت کی جانب سے چند روز پیشتر سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم آج بندشوں سے استثنیٰ کا آخری دن اور کل سے ایک بار پھر پرانا سلسلہ بحال ہو جائے گا۔
خیال رہے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد چھڑنے والی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ سامنے آیا جس پر مارچ کے دوران کفایت شعاری مہم کا آغاز کیا گیا تھا، جس کے تحت ہفتے میں تین چھٹیوں جمعہ، ہفتہ اور اتوار کا اعلان کیا گیا جبکہ عملے کو ورک فراہم ہوم کی سہولت بھی دی گئی۔

میڈیکل سٹورز، پیٹرول پمپس اور بعض دوسرے مقامات کو استثنیٰ دیا گیا ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)

اس مہم کا مقصد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال کو کم کرنا تھا جس میں کافی حد تک کامیابی دیکھنے میں آئی تاہم عیدالاضحیٰ کے قریب آنے پر تاجروں اور عام لوگوں کی جانب سے بندشیں ختم کرنے مطالبات کیے گئے۔
اس کے بعد عید سے چند روز قبل حکومت نے سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ ایران جنگ کا معاملہ حل کے قریب پہنچ گیا ہے۔
تاہم صورت حال بھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے اور امریکہ و ایران ابھی تک کسی ممکنہ حل پر متقفق نہیں ہو سکے ہیں اس لیے غیریقینی کی صورت حال برقرار ہے جس کا اثر تیل کی عالمی منڈیوں پر بھی پڑتا ہے۔

 

شیئر: