Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کے ایرانی فوجی تنصیبات پر حملے، ایران کا امریکی فوجی اڈے پر جوابی حملہ

امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ایران کے فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے پیر کو بتایا کہ اُس نے جواباً ایک امریکی فوجی اڈے پر حملہ کیا ہے۔ 
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یہ کارروائیاں تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی تازہ مثال ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام)نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا کہ خلیج کے ساحلی علاقے میں یہ حملے ’ایران کی جارحانہ کارروائیوں‘کے جواب میں کیے گئے۔
اسی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایران نے بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے امریکہ کے ایک ایم کیو-ون ڈرون کو بھی مار گرایا تھا۔‘
’امریکی جنگی طیاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایرانی فضائی دفاعی نظام، ایک زمینی کنٹرول سٹیشن اور دو خودکش ڈرونز تباہ کر دیے، جو علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے واضح خطرہ تھے۔‘
اس حوالے سے سینٹ کام کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کے دوران امریکہ اپنے اثاثوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔‘
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ ’ہم نے اُس ایئربیس  کو نشانہ بنایا جو امریکہ، جنوبی ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا تھا‘، تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ فضائی اڈہ کس ملک میں واقع ہے۔

شیئر: