Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خطرے کے سائرن، کویت پر ڈرونز اور میزائلوں کے حملے کو ناکام بنا دیا: کویتی فوج

کویتی فوج کے مطابق ’ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ملک میں آنے والے مختلف میزائلوں اور ڈرونز کو نشانہ بنایا‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)
کویت کے فضائی دفاعی نظام کی جانب سے پیر کو ملک میں آنے والے مختلف میزائلوں اور ڈرونز کو نشانہ بنایا گیا۔
عرب نیوز نے کویت کی سرکاری نیوز ایجنسی ’کونا‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’ملک کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے‘، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
کویتی فوج کے ہیڈکوارٹرز نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ’فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کے لیے کی گئی کارروائی کی وجہ سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔‘
اسی بیان میں شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کی گئی سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔
گذشتہ ہفتے بھی کویت پر ڈرون اور میزائل حملہ کیا گیا تھا، جس کا الزام کویت نے ایران پر عائد کیا تھا۔ کویتی حکام نے اس حملے کو ’خطرناک کشیدگی‘ قرار دیا تھا۔
پیر کو ہی امریکہ نے کہا کہ اس نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ایران کے فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بتایا کہ ’ہم نے ایک امریکی فوجی اڈے پر جوابی حملہ کیا ہے۔‘
یہ کارروائیاں تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکراتی عمل کے دوران دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی تازہ مثالیں ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا کہ خلیج کے ساحلی علاقے میں یہ حملے ’ایران کی جارحانہ کارروائیوں‘ کے جواب میں کیے گئے۔

گذشتہ ہفتے بھی کویت پر ڈرون اور میزائل حملہ ہوا تھا، جس کا الزام ایران پر عائد کیا گیا تھا (فائل فوٹو: روئٹرز)

اسی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایران نے بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے امریکہ کے ایک ایم کیو-ون ڈرون کو بھی مار گرایا تھا۔‘
’امریکی جنگی طیاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایرانی فضائی دفاعی نظام، ایک زمینی کنٹرول سٹیشن اور دو خودکش ڈرونز تباہ کر دیے، جو علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے واضح خطرہ تھے۔‘
اس حوالے سے سینٹ کام کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کے دوران امریکہ اپنے اثاثوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔‘
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ ’ہم نے اُس ایئربیس کو نشانہ بنایا جو امریکہ، جنوبی ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا تھا‘، تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ ایئربیس کس ملک میں واقع ہے۔

شیئر: